سڈنی: آسٹریلیا کے سات کپتانوں نے وزیر خارجہ پینی وونگ کو ایک خط لکھ کر سابق پاکستانی وزیراعظم اور کرکٹ کپتان عمران خان کی حراست اور طبی علاج کے حوالے سے انسانی ہمدردی پر مبنی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
یہ خط ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا نے مشترکہ طور پر لکھا ہے۔
خط میں کیا کہا گیا؟
سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ ان کی یہ مداخلت “سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کے طور پر نہیں، بلکہ سابق کپتانوں کے طور پر ہے جنہیں بولنے کا دباؤ محسوس ہوا”۔
انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے خلاف جاری قانونی یا سیاسی کارروائیوں پر کوئی موقف اختیار نہیں کر رہے اور ان معاملات کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ان کی اپیل کا مرکز حراست میں موجود افراد کے ساتھ سلوک ہے، جسے وہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر “بنیادی انسانیت” کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔
عمران خان کی حراست اور طبی معاملات
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں، جہاں انہیں متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔
18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ عمران خان کو دو دن کے اندر طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا ہسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق انہیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹر بھی موجود تھے۔
سابق کپتانوں کی تین مطالبات
تازہ اپیل میں آسٹریلوی سابق کپتانوں نے تین اقدامات پر زور دیا ہے:
- سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تشکیل کردہ طبی بورڈ، بشمول عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں، کو ان کی صحت کا مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے، خاص طور پر دائیں آنکھ میں بصارت سے محرومی کے خدشات کے حوالے سے۔
- عدالت کی جانب سے بحال کردہ ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بغیر کسی رکاوٹ یا انتظامی تاخیر کے جاری رہیں۔
- طبی جائزے کے بعد تجویز کردہ کوئی بھی علاج بغیر تاخیر فراہم کیا جائے۔
سابق کرکٹرز نے کہا کہ عمران خان کی عمر اور طویل حراست کے پیش نظر ضروری ہے کہ عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے طبی عمل مکمل طور پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے، چاہے ان کے کیس سے متعلق قانونی اور سیاسی بحث جاری رہے۔
عالمی کرکٹ برادری کی مسلسل آوازیں
یہ تازہ مداخلت فروری میں کی گئی اسی نوعیت کی اپیل کے بعد سامنے آئی ہے، جس پر 14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے دستخط کیے تھے۔
23 اگست کو دنیا بھر سے 22 سابق بین الاقوامی کپتانوں کے ایک اور گروپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے لیے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو شامل کرتے ہوئے آزاد طبی جائزے کا مطالبہ کیا تھا۔
سابق پاکستانی کپتان جاوید میانداد، وسیم اکرم اور معین خان نے بھی عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز نے بھی مناسب طبی علاج کی فراہمی کی حمایت کی ہے۔
