پیرس: فرانس میں تقریباً 16 لاکھ خواتین کو باقاعدہ خطوط بھیجے جا رہے ہیں جن میں انہیں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ڈیسوجیسٹرل پر مبنی برتھ کنٹرول گولیوں کے استعمال سے ان میں میننجیوما نامی دماغی ٹیومر کا خطرہ قدرے بڑھ سکتا ہے۔ اینٹیگون، سیرازیٹ، ایلفاسیٹ اور آپٹیمیزٹ جیسی گولیوں کا استعمال کرنے والی خواتین کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر انہیں مسلسل سر درد، بینائی میں خلل، پٹھوں کی کمزوری، توازن یا بولنے میں دشواری، یادداشت کی کمی، یا نئے یا بڑھتے ہوئے مرگی کے دورے محسوس ہوں تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
گولی چھوڑنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ لازمی
فرانس کی قومی دواسازی و صحت مصنوعات ایجنسی (ANSM) نے واضح کیا ہے کہ اس خط کے موصول ہونے کے بعد کوئی خاص اقدام کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایجنسی نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنا مانع حمل طریقہ جاری رکھیں اور ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر اسے خود سے بند نہ کریں، کیونکہ اچانک بندش سے ناپسندیدہ حمل کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
فرانس کی اعلیٰ صحت اتھارٹی (Haute Autorité de Santé) نے یاد دلایا ہے کہ مانع حمل طریقوں کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ ہر عورت کی طرز زندگی، ترجیحات اور زندگی کے مختلف مراحل کے مطابق موزوں طریقہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ باقاعدہ طبی معائنے سے ضروری معلومات اور مناسب مشورے ملتے ہیں جو ناپسندیدہ حمل سے بچاؤ میں زیادہ سے زیادہ مؤثریت کو یقینی بناتے ہیں۔
گولی چھوڑنے کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟
طبی جریدے سانٹے میگزین کے مطابق، اگر خواتین اپنی ماہواری پہلے از وقت نہیں چاہتیں تو بہتر ہے کہ گولی کا استعمال پیک کے اختتام پر بند کریں۔ متبادل طریقہ اختیار نہ کرنے کی صورت میں سب سے واضح اثر زرخیزی کی واپسی ہے، جو ہر عورت میں مختلف رفتار سے ہو سکتی ہے۔ ماہر امراض نسواں میریون گیرو کے مطابق، کچھ خواتین میں گولی چھوڑتے ہی بیضہ دانی فوراً فعال ہو جاتی ہے اور معمول کا ماہواری چکر شروع ہو جاتا ہے، جبکہ بعض میں بیضہ دانی کی سرگرمی بحال ہونے میں کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔
نایاب صورتوں میں گولی چھوڑنے کے تین ماہ بعد بھی ماہواری واپس نہیں آتی، جس پر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ گولی کسی پہلے سے موجود عارضے جیسے پی سی او ایس یا قبل از وقت بیضہ دانی کی ناکامی کی علامات کو چھپا رہی تھی۔
جِلد، بالوں اور دیگر اثرات
مانع حمل گولی کے اثرات صرف زرخیزی تک محدود نہیں۔ جِلد اور اکنے پر ہارمونز کا اثر پڑتا ہے، اور گولی چھوڑنے پر پرانے مسائل دوبارہ ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ماہر امراض نسواں اوڈل باگو کے مطابق، مانع حمل گولیوں میں موجود ایسٹروجن جِلد کو نمی پہنچاتے ہیں، اس لیے گولی چھوڑنے کے بعد جِلد خشک یا کھنچاؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، چونکہ گولی سیبم کی پیداوار کو کنٹرول کرتی ہے، اس کے بند ہونے پر بعض خواتین میں بالوں کا چکنائی والا ہونا واپس آ سکتا ہے۔
گولی اور جنسی خواہش کے تعلق پر متعدد مطالعات ہوئے ہیں، تاہم نتائج اتنے واضح نہیں جتنے عام طور پر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ ہر فرد اور ہارمونل خوراک کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔
متبادل مانع حمل طریقے
گولی کے بغیر ناپسندیدہ حمل سے بچاؤ کے لیے متعدد متبادل طریقے موجود ہیں، جن کے اپنے فوائد، نقصانات اور مؤثریت کے تناسب ہیں:
- ہارمونل یا تانبے کا آئی یو ڈی (IUD)
- پیسٹری (Patch)
- اندام نہانی رنگ (Vaginal Ring)
- پروجیسٹرون کے انجیکشن
- خواتین اور مردوں کے کنڈوم
ان تمام طریقوں کی مکمل فہرست فرانس کی حکومتی ویب سائٹ questionsexualite.fr پر دستیاب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مانع حمل طریقہ تبدیل کرنے یا بند کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ صحت کے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے اور موزوں ترین متبادل کا انتخاب کیا جا سکے۔
