برسلز: یورپی یونین نے کم عمر بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے ایک اہم اور فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کی تجویز پیش کی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے بدھ کے روز یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔
تجاویز کی تفصیلات
اپنے سالانہ خطاب میں ارسلا وان ڈیر لیین نے واضح کیا کہ نئی تجاویز کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی ممنوع ہوگی۔ انہوں نے کہا، “13 سال کی عمر سے پہلے سوشل میڈیا نہیں، اور 15 سال سے پہلے کوئی ذاتی اکاؤنٹ نہیں۔”
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 13 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو صرف “منی اکاؤنٹس” کی اجازت ہوگی، جو والدین کی نگرانی میں بنائے اور چلائے جائیں گے۔ ان اکاؤنٹس میں محدود خصوصیات اور استعمال کے وقت کی پابندی ہوگی۔ 15 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے، پلیٹ فارمز کو محفوظ ڈیزائن اپنانا لازمی ہوگا۔
قانون سازی کا عمل
یہ اقدامات یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی منظوری سے مشروط ہیں۔ جمعرات کو اس حوالے سے ایک تفصیلی قانونی مسودہ “EU Kids Act” پیش کیا جائے گا، جس کا اعلان اسٹراسبرگ میں کیا جائے گا۔
موجودہ قوانین ناکافی
اسکرین کی لت، ہراسانی، نیند کی کمی، کھانے کی عادات میں خرابی اور جنسی نوعیت کی درخواستوں سمیت متعدد خطرات کا سامنا کم عمر افراد کو آن لائن کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ یورپی قانون سازی، جیسے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA)، کو ناکافی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کے تحفظ کے لیے سیاسی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فرانس کا کردار اور آئینی رکاوٹ
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے 2026 کے اختتام تک 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کو حتمی شکل دینے کا عہد کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک بل پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، لیکن آئینی کونسل نے اسے “آزادی اظہار پر غیر متناسب پابندی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
آسٹریلیا کے ماڈل سے فرق
یورپی یونین کی تجاویز آسٹریلیا کے اس ماڈل سے زیادہ لچکدار ہیں، جہاں گزشتہ سال سے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد ہے، لیکن نوجوانوں نے اسے بڑے پیمانے پر نظر انداز کیا ہے۔ یورپی یونین کا مجوزہ تدریجی نظام فرانس کے نئے بل سے کافی مشابہت رکھتا ہے، جو 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے نقصان دہ خصوصیات والے پلیٹ فارمز پر پابندی لگاتا ہے، جبکہ 13 سال سے استثنیٰ کی گنجائش بھی رکھتا ہے۔
پلیٹ فارمز پر سخت شرائط اور جرمانے
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، یورپی کمیشن کا مجوزہ قانون مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا، جن میں سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس، چیٹ بوٹس اور آن لائن گیمز شامل ہیں۔
عمر کی پابندیاں پوری یورپی یونین میں نافذ ہوں گی، اور پلیٹ فارمز کو اضافی شرائط پوری کرنا ہوں گی اگر وہ کم عمر صارفین کے لیے اپنی خدمات دستیاب رکھنا چاہتے ہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں عالمی سطح پر ان کی سالانہ آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
ان ذمہ داریوں میں پلیٹ فارمز کو اپنی “لت پیدا کرنے والی” خصوصیات، جیسے لامحدود اسکرولنگ اور انتہائی ذاتی نوعیت کی سفارشات، کو ہٹانا ہوگا اور نئے صارفین کی عمر کی باقاعدہ تصدیق کرنی ہوگی۔
یورپی سطح پر بڑھتا دباؤ
یہ تجاویز بچوں کے تحفظ کے ماہرین، سائنسدانوں اور ماہرین نفسیات کی جولائی میں پیش کردہ رپورٹ سے متاثر ہیں۔ یورپی کمیشن کی صدر نے گزشتہ ایک سال سے اس معاملے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، اور اب یہ معاملہ یورپی سطح پر باقاعدہ قانون سازی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
