پیرس کی ساتویں آرونڈسمنٹ کی میئر اور فرانس کی سابق وزیرِ انصاف رشیدہ داتی کے خلاف بدعنوانی اور اثر و رسوخ کے غلط استعمال کا مقدمہ بدھ 16 ستمبر کو شروع ہو گیا ہے۔ یہ مقدمہ کارلوس غصن کے ساتھ مل کر ان پر عائد الزامات سے متعلق ہے، جن میں رینالٹ نسان کے ساتھ 9 لاکھ یورو کے متنازع معاہدے کے تحت مبینہ غیر قانونی لابنگ شامل ہے۔
مقدمے کی بنیاد اور الزامات
فرانسیسی تفتیش کاروں کے مطابق، رشیدہ داتی پر الزام ہے کہ انہوں نے اکتوبر 2009 سے فروری 2013 کے دوران یورپی پارلیمنٹ کی رکن رہتے ہوئے رینالٹ نسان گروپ کے لیے غیر قانونی طور پر لابنگ کی۔ اس دوران انہیں سالانہ 3 لاکھ یورو کے حساب سے کل 9 لاکھ یورو ادا کیے گئے۔
یہ معاہدہ 2019 کے موسم گرما میں اس وقت قانونی چارہ جوئی کے دائرے میں آیا جب کارلوس غصن کی جاپان میں گرفتاری کے بعد پیرس میں رینالٹ کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارا گیا۔ تفتیش کا مرکزی سوال یہ ہے کہ آیا یہ رقم قانونی مشاورتی خدمات کے عوض تھی، کیونکہ داتی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، یا یہ ایک فرضی عہدہ تھا جس کے ذریعے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے ممنوعہ لابنگ کو چھپایا گیا۔
داتی کا مؤقف اور قانونی چیلنجز
رشیدہ داتی نے تفتیش کے دوران کسی بھی غیر قانونی فعل سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام معاملات کو باقاعدہ طور پر ظاہر اور کنٹرول کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنے کام کے تمام ثبوت پیش کیے ہیں۔ ان کے مطابق، اس معاملے میں رینالٹ نہ تو مدعی ہے اور نہ ہی متاثرہ فریق، اور نہ ہی کوئی سرکاری رقم داؤ پر لگی ہے۔
داتی نے اس مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا، خاص طور پر 2021 کے موسم گرما میں جب انہوں نے 2022 کے صدارتی انتخابات کے لیے دائیں بازو کی پرائمری میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم، پیرس کے میونسپل انتخابات میں شکست کے بعد اس مقدمے کی سیاسی اہمیت کچھ کم ضرور ہوئی ہے، لیکن داتی کے لیے قانونی خطرات برقرار ہیں۔
ممکنہ سزائیں اور سیاسی اثرات
اگر داتی کو مجرم قرار دیا جاتا ہے تو انہیں 10 سال تک قید، 4 لاکھ 50 ہزار یورو جرمانے اور عوامی عہدے سے نااہلی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس سے ان کے میئر کے طور پر کام کرنے کی اہلیت متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ جنوری 2024 میں انہیں وزیر ثقافت کے عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدمے کی سماعت کے آغاز کے ساتھ ہی داتی دوبارہ مجسٹریٹ کے عہدے پر واپس جا رہی ہیں، ایک ایسا اتفاق جس پر ٹریڈ یونینوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ کارلوس غصن، جو اس مقدمے میں شریک ملزم ہیں، عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔
یہ مقدمہ فرانسیسی سیاست میں بدعنوانی کے خلاف قانونی کارروائیوں کی ایک اہم مثال ہے، جو یورپی پارلیمنٹ میں لابنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
