فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو جمعے کی صبح ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ایلیسی محل کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق یہ اجلاس “گزشتہ چند روز میں تیزی سے بگڑتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال” کے پیش نظر بلایا گیا ہے۔
اجلاس کا ایجنڈا کیا ہوگا؟
ایلیسی محل کے مطابق اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ان تنازعات کے فرانس پر سلامتی اور توانائی کے شعبوں میں کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ بھر میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی تشویشات اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات عروج پر ہیں۔ فرانسیسی حکومت کی جانب سے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کی یہ کوشش ملکی سطح پر متفقہ حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
یورپ میں ڈرون کی دراندازیوں پر تشویش
ادھر فرانس کی وزیرِ مملکت برائے مسلح افواج نے یورپ میں بڑھتی ہوئی ڈرون دراندازیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ “روس ہماری حدود کا امتحان لے رہا ہے۔” ان بیانات نے یورپی دفاعی حکمتِ عملی سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی اہمیت
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بحرانوں کے تناظر میں صدر میکرون کا یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل مضبوط ہوگا اور قومی سطح پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں مدد ملے گی۔
- اجلاس جمعے کی صبح ایلیسی محل میں منعقد ہوگا
- مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات مرکزی ایجنڈا ہوں گے
- سلامتی اور توانائی کے شعبوں پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا
- یورپ میں روسی ڈرون دراندازیوں پر بھی تشویش موجود ہے
واضح رہے کہ فرانس اس وقت متعدد داخلی سیاسی چیلنجز سے بھی دوچار ہے، جن میں 2027 کے بجٹ اور صدارتی انتخابات سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ تاہم بین الاقوامی بحران نے حکومت کی ترجیحات کو خارجہ اور دفاعی امور کی جانب مرکوز کر دیا ہے۔
