پیرس کے سولہویں آرونڈسمنٹ میں واقع ایک ریستوران کے بیت الخلا میں ایک نوجوان خاتون سے مبینہ زیادتی کے معاملے میں چالیس سالہ شامی تاجر کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ ملزم کو بدھ سولہ ستمبر کو پیرس میں پیش کیا گیا، جہاں عدالتی کارروائی کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات
فرانسیسی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ تیرہ اور چودہ ستمبر کی درمیانی شب پیش آیا۔ اس رات تقریباً ساڑھے دس بجے تیس سالہ خاتون نے ایونیو کلے پر واقع ریستوران موکس لے ایکیورے میں چیخ و پکار کرتے ہوئے اطلاع دی کہ اس کے ساتھ بیت الخلا میں زیادتی کی گئی ہے۔
ملزم موقع سے فرار ہو کر اپنی گاڑی میں آرک ڈی ٹرومف کی جانب روانہ ہو گیا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کچھ ہی فاصلے پر اسے تلاش کر لیا۔ اسے گرفتار کر کے تھانے میں حراست میں لے لیا گیا، جہاں تفتیشی کارروائی جاری رہی۔
قانونی کارروائی
تفتیش کے دوران جمع ہونے والے شواہد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے بعد اسے باقاعدہ طور پر حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ فرانسیسی قانون کے تحت اس جرم کی سزا انتہائی سخت ہے اور اس نوعیت کے مقدمات میں تفتیشی عمل کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔
واضح رہے کہ ملزم کے خلاف فردِ جرم عائد ہونے کا مطلب مجرم قرار دیا جانا نہیں ہے، اور عدالت کو حتمی فیصلے سے قبل تمام شواہد کا مکمل جائزہ لینا ہوگا۔
معاشرتی ردِعمل
اس واقعے نے پیرس میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کو ہوا دی ہے۔ شہر کے مختلف حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی مقامات، خاص طور پر ریستورانوں اور ہوٹلوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
یاد رہے کہ فرانس میں جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے خصوصی معاون مراکز اور ہیلپ لائنز موجود ہیں، جہاں متاثرین کو قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
