واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور ان تینوں میڈیا اداروں پر “جعلی خبریں” مسلسل شائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور دیگر میڈیا اداروں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: “میڈیا اداروں کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ امریکہ کے صدر، ٹرمپ انتظامیہ یا امریکہ کی کوریج کرتے ہوئے مسلسل من گھڑت اور جھوٹی خبریں لکھیں یا نشر کریں۔”
تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس فیصلے کی وجہ کون سی مخصوص رپورٹس بنیں، اور نہ ہی یہ بتایا کہ پابندی کیسے نافذ کی جائے گی، یعنی آیا صحافیوں کے پریس پاس منسوخ ہوں گے یا انہیں وائٹ ہاؤس کی بریفنگز، تقریبات اور پریس پولز سے باہر رکھا جائے گا۔
جمعے کے روز سی این این کے صحافی اب بھی وائٹ ہاؤس سے کام کر رہے تھے، اور ایسا کوئی فوری اشارہ نہیں ملا کہ انتظامیہ نے اعلان کردہ پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو
اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے صحافت کی آزادی کے لیے پہلی ترمیم کے تحفظات کے باوجود اس اقدام کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ ان اداروں کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک سکتے ہیں جنہیں وہ “جعلی خبریں” قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: “ان میں شامل ہونے والے مزید ادارے بھی ہو سکتے ہیں۔” ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر میڈیا ادارے بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق، سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا گیا۔
ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ
یہ اعلان ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں بڑے امریکی میڈیا اداروں کے ساتھ جھڑپوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
- ٹرمپ نے اس سے قبل ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں کی رسائی محدود کر دی تھی، جب اس ایجنسی نے “خلیج امریکہ” کے بجائے “خلیج میکسیکو” کا اصطلاح استعمال جاری رکھا، جس کے بعد اے پی نے عدالت میں اس پابندی کو چیلنج کیا۔
- ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں وائٹ ہاؤس نے 2018 کی ایک نیوز کانفرنس میں صدر کے ساتھ تلخ تبادلے کے بعد سی این این کے نامہ نگار جم ایکوسٹا کے پریس پاس منسوخ کر دیے تھے۔ سی این این نے مقدمہ دائر کیا، اور ایک وفاقی جج نے عارضی طور پر ایکوسٹا کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے بالآخر ان کے پریس پاس بحال کر دیے۔
صحافتی آزادی کے محافظوں کا ردعمل
اس تازہ اعلان پر صحافتی آزادی کے محافظوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹرز کمیٹی فار فریڈم آف دی پریس کے صدر بروس ڈی براؤن نے کہا کہ ناپسندیدہ کوریج کی بنیاد پر عائد کردہ پابندی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ نقطہ نظر کی بنیاد پر امتیاز کے مترادف ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک یہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ اعلان کردہ پابندیاں کب اور کیسے نافذ العمل ہوں گی۔
