فرانس کے محکمہ پاس ڈی کیلے میں واقع بیتھون کی پراسیکیوٹر کے دفتر کی زیر نگرانی ایک تحقیقات کے نتیجے میں لینس اور ڈوئی کے علاقوں میں سرگرم ایک خطرناک “تشدد پسند دلالوں کے نیٹ ورک” کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس نیٹ ورک پر الزام ہے کہ اس نے جسم فروشی میں ملوث خواتین اور بعض اوقات ان کے گاہکوں کو بھی نشانہ بنا کر ان سے زبردستی رقم وصول کی۔
متاثرین کی تعداد اور ہولناک تفصیلات
اس نیٹ ورک کے ہاتھوں کم از کم 16 افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر جسم فروشی میں ملوث خواتین شامل ہیں۔ ان متاثرین میں ایک لڑکی کی عمر صرف 13 سال بتائی گئی ہے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق، ملزمان صرف خواتین تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے گاہکوں کو بھی نشانہ بنایا۔
فرانس 3 کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور ان سے بھتہ وصول کیا جاتا، جبکہ گاہکوں سے دھمکیوں کے ذریعے رقم بٹوری جاتی تھی۔ یہ نیٹ ورک ایک منظم طریقے سے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول قائم رکھے ہوئے تھا۔
گرفتاریاں اور قانونی کارروائی
تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی میں دس افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے آٹھ کو بیتھون کی پراسیکیوٹر کے سامنے پیش کیا گیا۔ ملزمان میں ایک 16 سالہ نابالغ بھی شامل ہے، جسے بچوں کے جج کے سامنے پیشی تک ایک بند تعلیمی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
- چار بالغ ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا
- ان پر 19 نومبر کو بیتھون کی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا
- پراسیکیوٹر کے مطابق انہیں دس سال قید اور 150,000 یورو جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے
- باقی تین ملزمان نے “اقبال جرم” کے طریقہ کار کے تحت اپنی غلطی تسلیم کی
- ایک ملزم کو دس ماہ کی سخت قید جبکہ دو دیگر کو 14 ماہ کی معطل سزا سنائی گئی
علاقے میں تشویش کی لہر
یہ واقعہ فرانس کے شمالی علاقوں میں انسانی اسمگلنگ اور جبری جسم فروشی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کی بے نقابی ایک طویل تحقیقاتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں متاثرین کے بیانات اور خفیہ معلومات کو اہم بنیاد بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کے نیٹ ورک اکثر کمزور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بناتے ہیں، خاص طور پر نابالغوں کو۔ اس کیس میں ایک 13 سالہ بچی کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے گروہ کس حد تک بے رحم ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ مزید متاثرین کو بچایا جا سکے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
