وارسا: پولینڈ کی وزارت داخلہ نے اتوار گیارہ اکتوبر کو انسداد دہشت گردی مرکز میں اعلیٰ حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس کا سبب پولیس کو موصول ہونے والی وہ اطلاعات ہیں جن میں وزیراعظم اور وزیر دفاع کے خلاف ممکنہ قاتلانہ حملوں کا انکشاف ہوا ہے۔
اعلیٰ سیکیورٹی حکام طلب
وزارت داخلہ کی ترجمان کیرولینا گیلیکا کے مطابق اس ہنگامی اجلاس میں پولیس، ریاستی تحفظ کی ایجنسی اور داخلی سلامتی کی ایجنسی (اے بی ڈبلیو) کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس داخلی سلامتی کی ایجنسی کے انسداد دہشت گردی مرکز میں منعقد ہو رہا ہے۔
ابھی تک حکام کی جانب سے اس ممکنہ خطرے کی نوعیت یا تفصیلات کے بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کو ملنے والی معلومات میں وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک اور وزیر دفاع کو نشانہ بنانے کی ممکنہ کوششوں کا ذکر ہے۔
خطے میں سیکیورٹی خدشات
پولینڈ نیٹو اور یورپی یونین کا رکن ملک ہے اور دونوں اتحادوں کے مشرقی محاذ پر واقع ہے۔ ستمبر میں تعلیمی سال کے آغاز سے اب تک اسکولوں اور کالجوں میں چاقو کے حملوں اور نوعمروں یا نوجوان بالغوں سے منسلک ممکنہ حملوں کے واقعات کے بعد ملک حالتِ انتباہ میں ہے۔
وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے جمعرات کو کہا تھا کہ دنیا میں تشدد کا ایک ’ہمہ گیر فرقہ‘ پنپ رہا ہے جو اب پولینڈ تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے اس بیان نے ملکی سطح پر تشویش کی لہر کو مزید تقویت دی ہے۔
- وزارت داخلہ نے انسداد دہشت گردی مرکز میں ہنگامی اجلاس طلب کیا
- پولیس کو وزیراعظم اور وزیر دفاع کے خلاف ممکنہ قاتلانہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں
- پولیس، ریاستی تحفظ اور داخلی سلامتی ایجنسی کے حکام اجلاس میں شریک
- حکام نے خطرے کی نوعیت پر تفصیلات جاری نہیں کیں
- ستمبر سے اسکولوں میں تشدد کے واقعات کے بعد ملک حالتِ انتباہ میں ہے
واضح رہے کہ پولینڈ مشرقی یورپ میں ایک اہم نیٹو رکن کی حیثیت رکھتا ہے اور حالیہ عرصے میں اسے متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
