اسلام آباد پولیس نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی ہلاکت سے منسلک جعلی دستاویزات کے معاملے میں ایک مرد اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لائبہ اعجاز، جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ تھیں، ایک روز قبل دارالحکومت میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔ پولیس ان کی مبینہ خودکشی اور ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ایک شخص نے خود کو سرکاری افسر ظاہر کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے بیرون ملک تعلیم کے لیے رقم وصول کی اور جعلی یونیورسٹی داخلہ دستاویزات دے کر انہیں دھوکہ دیا۔
گرفتاریاں اور تحقیقاتی پیش رفت
ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے نامزد فراڈ ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے جس میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی طالبہ کو ایک گلی سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل نے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
ایف آئی اے کا مقدمہ اور مالی فراڈ کی تفصیلات
ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل نے امریکی ویزا اور اسکالرشپ فراہم کرنے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کرنے پر مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں محمد نعمان اور فاطمہ سرور کو نامزد کیا گیا تھا۔
- ایف آئی اے حکام کے مطابق وصول کی گئی رقم میں سے 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادا کیے گئے، جبکہ باقی رقم نقد وصول کی گئی۔
- ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ لائبہ اعجاز مبینہ مالی فراڈ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی اذیت کے دوران ہلاک ہوئیں۔
واضح رہے کہ پولیس اور ایف آئی اے دونوں اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں تاکہ فراڈ کے تمام پہلوؤں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
