یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اور کیف کے میئر ویتالی کلچکو، جو سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں، نے منگل تیرہ اکتوبر کو روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سردیوں کی تیاریوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر علانیہ تنقید کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان برسوں سے اختلافات چلے آ رہے ہیں، تاہم اس طرح کھلے عام تصادم کا سامنا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
زیلنسکی کا کیف کی تیاریوں پر سوال
ولودیمیر زیلنسکی نے منگل کو ایک اجلاس کے بعد بتایا کہ یوکرینی شہروں کو موسم سرما کی تیاری کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، کیونکہ کیف کو خدشہ ہے کہ رواں سردیوں میں بھی گزشتہ برس کی طرح توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملے کیے جا سکتے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے اس موقع پر دارالحکومت میں تیاریوں کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیف میں پیش رفت سرحدی اور محاذ کے علاقوں سے بھی کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیف کے رہائشی اس صورتحال کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں، جہاں ڈرون کے الگ تھلگ حملے بھی دارالحکومت کے بڑے حصوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کر دیتے ہیں۔
کلچکو کا جواب: تنقید بے بنیاد ہے
دوسری جانب ویتالی کلچکو نے ان تنقیدوں کو بے بنیاد قرار دیا۔ کیف کے میئر نے الزام عائد کیا کہ صدارتی دفتر مقامی خودمختاری کو ختم کرنے اور دارالحکومت کی قیادت سے انہیں ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کلچکو نے کہا کہ عوام نے انہیں منتخب کیا ہے اور وہ انتہائی مشکل حالات میں اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ دشمن کے تباہ کن اور مسلسل حملوں کے باوجود شہر کی کارکردگی برقرار رہے۔
- کیف کے کئی علاقے روسی بمباری کے باعث اندھیرے میں ڈوب چکے ہیں۔
- سڑکوں پر افراتفری پھیل چکی ہے اور میٹرو سروس معطل ہو چکی ہے۔
- کلچکو کے مطابق دارالحکومت اس وقت بقا کی جدوجہد کے موڈ میں ہے۔
سیاسی پس منظر
سابق باکسنگ چیمپئن ویتالی کلچکو نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ روسی بمباری کی وجہ سے یوکرینی دارالحکومت بقا کے موڈ میں کام کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ولودیمیر زیلنسکی نے سنہ دو ہزار انیس میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ویتالی کلچکو کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ کلچکو سابق صدر پیٹرو پوروشینکو کے قریبی ساتھی ہیں، جو موجودہ صدر کے اہم ترین سیاسی حریف مانے جاتے ہیں۔ کیف کے میئر نے متعدد بار زیلنسکی پر آمریت اور مقامی حکومتوں کے اختیارات میں کمی کا الزام عائد کیا ہے۔
