اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان مبینہ پرتشدد تصادم کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے تھے کہ تصادم کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور کچھ افسران کو یرغمال بنا لیا گیا، تاہم فیکٹ چیک میں ان تمام دعووں کی تردید کی گئی ہے۔
فیکٹ چیک میں کیا انکشاف ہوا؟
فیکٹ چیک کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے باڑہ یا کسی بھی دیگر حصے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ متعدد ملکی اور بین الاقوامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کے دعوے پھیلائے۔ ان پوسٹس میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور بعض کو مظاہرین نے یرغمال بنا لیا۔
غیر ملکی اور مقامی عناصر کیخلاف الزام
فیکٹ چیک میں مزید بتایا گیا کہ بعض افغان اور مقامی عناصر نے پی ٹی آئی کے چند سیاستدانوں کے ساتھ مل کر علاقے میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف
مقامی انتظامیہ نے بھی واضح کیا کہ علاقے میں صورتحال پرامن ہے اور سڑکوں پر کوئی مظاہرین موجود نہیں۔ انتظامیہ نے پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے یا یرغمال بنائے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
- ضلع خیبر کے کسی علاقے میں پولیس اور مظاہرین کے تصادم کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
- سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد قرار دی گئی ہیں۔
- علاقے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
- پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے یا یرغمال بننے کے دعوے مسترد کر دیے گئے۔
عوام کیلئے ہدایات
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں پر انحصار نہ کریں اور کسی بھی معلومات کو آگے پھیلانے سے قبل مستند اور سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
