ٹیکساس میں ایک ہزار ڈالر مالیت کا قلم ایک بار پھر سیاست کی زینت بن گیا ہے۔ ریاستی سینیٹ کی نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو چودہ سال قبل چرائے گئے اس luxury قلم کا واقعہ اس وقت گھیرے میں لے رہا ہے جب ان کا ڈیموکریٹ حریف جیمز تالاریکو اس معاملے کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا رہا ہے۔
واقعہ کیا ہے؟
14 اگست 2012 کو ڈلاس کے قریب کولن کاؤنٹی کی عدالت میں اس وقت کے ریاستی قانون ساز کین پیکسٹن نے ایک ہزار ڈالر مالیت کا قلم اٹھایا جو ان کا نہیں تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ سیکیورٹی گیٹ سے گزرتے ہوئے قلم اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں۔ پیکسٹن نے بعد میں قلم اس کے اصل مالک وکیل جو جوپلن کو واپس کر دیا اور تب سے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ یہ محض ایک غلط فہمی تھی۔
حریف کی انتخابی حکمت عملی
37 سالہ جیمز تالاریکو، جو سابق استاد اور مذہبی مدرسے کے طالب علم رہ چکے ہیں، اپنی مہم میں اس واقعے کو بار بار دہرا رہے ہیں اور ویڈیو فوٹیج بھی استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ اگست میں، واقعے کی چودہویں برسی کے موقع پر، انہوں نے وہی ویڈیو دوبارہ جاری کی جس میں متاثرہ وکیل جو جوپلن خود ان کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
- تالاریکو کی مہم نے اپنے قلم فروخت کرنا شروع کیے ہیں جن پر لکھا ہے: “یہ کین پیکسٹن کا قلم نہیں ہے۔”
- 2018 میں ڈیموکریٹ جسٹن نیلسن نے بھی اسی واقعے کو اپنی مہم میں استعمال کیا تھا۔
- 2025 میں ریپبلکن سینیٹر جان کارنین نے بھی پرائمری میں پیکسٹن کے خلاف اس قلم کو “بدعنوانی کی علامت” قرار دیا تھا۔
پیکسٹن کے دیگر اسکینڈلز
63 سالہ پیکسٹن، جو انتہائی قدامت پسند اور MAGA تحریک کی نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں، متعدد اسکینڈلز میں گھرے ہوئے ہیں جن کے مقابلے میں ہزار ڈالر کا قلم معمولی بات لگتی ہے۔ 2023 میں ٹیکساس کی ریاستی ایوانِ نمائندگان نے ان پر دھوکہ دہی اور اعتماد کے غلط استعمال کے الزامات میں مواخذے کی کارروائی شروع کی، تاہم بعد میں وہ بری ہو گئے۔
ٹرمپ کی حمایت اور انتخابی مسابقت
ڈونلڈ ٹرمپ نے پیکسٹن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں “شاندار، عقل مند اور سب کے پسندیدہ سینیٹر” قرار دیا۔ ٹرمپ کی ٹیم نے ٹیکساس میں متعدد انتخابی جلسے بھی منعقد کیے، جن میں سان انتونیو میں 8 اکتوبر کا جلسہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب، تالاریکو کو سابق صدر باراک اوباما کی حمایت حاصل ہے۔
کیوں اہم ہے؟
ٹیکساس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ریپبلکنز کا مضبوط گڑھ رہا ہے، اور اگر یہ ریاست ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں چلی جائے تو یہ کانگریس میں ٹرمپ کی ریپبلکن اکثریت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں تالاریکو اس نشست کی دوڑ میں آگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قلم کے واقعے کو ملکی سطح پر توجہ ملنے کی وجہ سے یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، اور یہ چھوٹا سا واقعہ ٹیکساس کی سیاسی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
