فرانس کے شہر سینٹ-ایٹیان میں ہفتے کے روز جاری ہونے والی ایک احتجاجی ریلی کے دوران 17 سالہ نوجوان مظاہرین کا ہاتھ پولیس کی جانب سے پھینکی گئی گرینیڈ کے پھٹنے سے اُڑ گیا۔ اس سنگین واقعے کے بعد پولیس کی داخلی تحقیقاتی ایجنسی (IGPN) نے تفتیش شروع کر دی ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور گرینیڈ استعمال کیے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، متاثرہ نوجوان نے زمین پر پڑی گرینیڈ کو ہاتھ سے اٹھایا جس کے بعد وہ زوردار دھماکے سے پھٹ گئی۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ نوجوان کا دایاں ہاتھ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
لوئر پریفیکچر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 17 سالہ نوجوان کے ہاتھ میں شدید چوٹ آئی ہے۔ ابتدائی طور پر حکام نے نوجوان کی عمر بیس سال بتائی تھی، تاہم بعد ازاں اس کی تصحیح کی گئی۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر سینٹ-ایٹیان کے یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
احتجاجی مظاہروں کی صورت حال
یہ احتجاج “مہنگائی کے خلاف” کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا، جس کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، مشتعل مظاہرین نے متعدد دکانوں کے شیشے توڑ دیے اور شہری املاک کو نقصان پہنچایا۔
- دکانوں کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات
- بس اسٹاپس اور شہری سہولیات کو نقصان
- ایک ذیلی میونسپلٹی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا
- سٹی ہال میں گھسنے کی کوشش ناکام بنائی گئی
سرکاری ردعمل اور تفتیش
سینٹ-ایٹیان کے سوشلسٹ میئر ریجس جوانیکو نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور زخمی نوجوان اور اس کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس طرح کا سانحہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔” تاہم، انہوں نے تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان افعال کو کسی بھی طور پر جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
پیرس کی پراسیکیوٹر آفس نے زخموں کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے جو پولیس کی داخلی تحقیقاتی ایجنسی (IGPN) کے حوالے کی گئی ہے۔ میئر نے اتوار کی صبح پریفیکٹ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں نقصانات کا جائزہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماضی کے واقعات کا حوالہ
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 5 اکتوبر کو لینز شہر میں طلبہ کی تحریک کے دوران بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک نوجوان کا ہاتھ اُڑ گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے مذکورہ تحریک کے دوران اس قسم کی گرینیڈ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سینٹ-ایٹیان کا تازہ واقعہ ایک بار پھر پولیس کے ہتھیاروں کے استعمال کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
