راولپنڈی: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع بالائی کرم میں پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں سے مؤثر جوابی کارروائی کی ہے، جس میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک اور ان کا شیپولہ بیس کیمپ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
تیدہ سیکٹر اور غوزگرہی میں فائرنگ کا تبادلہ
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز تیدہ سیکٹر اور غوزگرہی سمیت سرحدی علاقوں میں پیش آیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے فائرنگ اس وقت کی گئی جب وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں اور توپ خانے کے ذریعے سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ بالائی کرم میں پاکستانی افواج نے توپ خانے سے افغان طالبان کی ٹاپ سر پوسٹ اور شیپولہ بیس کیمپ کو نشانہ بنایا، اور جوابی کارروائی میں بیس کیمپ مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔
طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور پوسٹوں سے فرار
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق غوزگرہی سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک ہوئے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی سرحدی پوسٹ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاک فوج سرحدوں کے دفاع اور ملکی سلامتی کے لیے ہر وقت چوکس اور پُرعزم ہے۔
اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی
یہ تازہ سرحدی تصادم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندی کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ اسلام آباد الزام لگاتا رہا ہے کہ عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
جمعے کے روز پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ رابطہ غیر مشروط نہیں ہو سکتا۔ ترجمان سجاد حیدر خان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے سیکیورٹی خدشات کے حل اور علاقائی امن کے لیے دوست ممالک کی سنجیدہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا، اور یہ تجویز مسترد کی کہ اسلام آباد مذاکرات نہیں چاہتا۔
ستمبر سے جاری فوجی کارروائیاں
گزشتہ ماہ ستمبر میں خیبر پختونخوا میں بڑے حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ حکومت کے مطابق 21 ستمبر کے حملوں میں 28 سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
- پاکستان نے تورخم اور کوہاٹ کے قریب فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز مار گرائے تھے۔
- یکم اکتوبر کو پاکستان نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی۔
- فروری 2026 میں افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ کے جواب میں آپریشن غضب الحق شروع کیا گیا تھا۔
عسکریت پسندانہ حملوں میں اضافہ
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 عسکریت پسندانہ حملے ریکارڈ کیے گئے، جو اگست کے 199 حملوں کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں اور گزشتہ بارہ سالوں میں ایک ماہ میں حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اسلام آباد کے لیے مستقل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جبکہ سرحدی محاذ پر فائرنگ کا تبادلہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر رہا ہے۔
