پیرس: فرانس میں مہنگائی کے خلاف 17 اکتوبر کی بڑی مظاہرے کی تحریک پرتشدد واقعات کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد شہروں میں شہری گوریلا جنگ اور لوٹ مار کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے 1200 گرفتاریوں اور 150 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے، جبکہ لیموژ شہر میں بلدیاتی ہال کو آگ لگا کر بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا۔
لیموژ میں بلدیاتی ہال آتشزدگی کا شکار
لیموژ میں 1883 میں تعمیر شدہ تاریخی بلدیاتی ہال ہفتے کی رات آتشزدگی کا شکار ہو گیا، جسے مقامی حکام نے مظاہرے کے دوران شرپسندوں کے گروہ کے داخلے کے بعد جان بوجھ کر لگائی گئی آگ قرار دیا ہے۔ آگ پہلے عمارت کے اندر لگی اور پھر چھت تک پھیل گئی۔ ہاؤٹ-ویین کے پریفیکٹ مورس باراتے نے بتایا کہ عمارت “بڑی حد تک تباہ” ہو چکی ہے اور فائر بریگیڈ آخری انگاروں کو بجھا رہی ہے۔
سینکڑوں مقامی باشندوں نے بے بسی کے عالم میں اس بھیانک منظر کو دیکھا۔ ایک مقامی شہری ژاں پیئر نے آنسو روکتے ہوئے کہا: “میں نے اپنی زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے ہماری ثقافتی ورثہ تباہ کر دیا۔”
پیرس میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں
پیرس پولیس پریفیکچر کے مطابق دارالحکومت اور اس کے مضافات میں کل 855 گرفتاریاں کی گئیں۔ پریفیکچر نے بتایا کہ 110,000 مظاہرین کا مرکزی جلوس بغیر کسی بڑے واقعے کے مکمل ہوا، تاہم انتہائی بائیں بازو کے پرتشدد گروہوں نے رکاوٹیں کھڑی کرنے، جنگلی جلوس نکالنے اور لوٹ مار کی کوششیں کیں۔
پولیس کے مطابق یہ پرتشدد گروہ “غیر معمولی طور پر” زیادہ تعداد میں تھے، جن کی تعداد 500 سے 1000 تک تھی، اور ان کا واحد مقصد چوری اور لوٹ مار تھا۔ دارالحکومت میں 13 پولیس اہلکار اور دو فائر فائٹر زخمی ہوئے۔
وزیر اعظم کا سخت موقف
وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے کہا کہ “اب وقت آ گیا ہے کہ اپنا کیمپ منتخب کریں — یا جمہوریہ کا، یا شرپسندوں کا۔” انہوں نے کہا کہ ایک “ناقابل واپسی نقطہ” عبور کر لیا گیا ہے۔ وزیر انصاف گیرالڈ دارمینن نے استغاثہ کو ہدایت دی ہے کہ پولیس، فائر فائٹرز، سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف “انتہائی سخت” عدالتی کارروائی کی جائے اور ان کے خلاف پری ٹرائل حراست کی درخواست کی جائے۔
دیگر شہروں میں بھی تباہی
پیرس کے علاوہ مارسیلے، لیون، بورڈو، نانتس اور نیس میں بھی دکانیں لوٹی گئیں۔ مارسیلے اور لِل میں بلدیاتی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹ-ایٹین میں ایک 17 سالہ نوجوان کے ہاتھ پر شدید چوٹ آئی، جس کی تحقیقات جی آئی پی این کو سونپ دی گئی ہیں۔
- وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 550,000 افراد نے مظاہرہ کیا، جن میں 110,000 پیرس میں
- مظاہرین کے منتظمین نے 800,000 افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا
- پیرس، مارسیلے، لیون، بورڈو، نانتس اور نیس میں دکانیں لوٹی گئیں
- لیموژ کا بلدیاتی ہال آتشزدگی سے بڑی حد تک تباہ
- حکومت انتہائی بائیں بازو پر الزام عائد کرتے ہوئے سخت عدالتی کارروائی کا وعدہ کر رہی ہے
سیاسی ردعمل اور ذمہ داریوں پر اختلاف
پیرس، مارسیلے اور لیون کے میئرز نے وزیر اعظم سے فوری ملاقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تشدد کی وجوہات کی وضاحت کی جائے۔ تینوں میئرز نے مشترکہ بیان میں کہا: “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک واضح تشخیص پیش کی جائے جس میں اس صورتحال تک پہنچنے کے اسباب کی وضاحت ہو۔ ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہو سکتا ہے۔”
دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے تشدد کی مذمت تو کی ہے لیکن ذمہ داریوں کے تعین پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ نیشنل ریلی کے رہنماؤں نے انتہائی بائیں بازو کو “افراتفری کے پیشہ ور” قرار دیا، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے پولیس کی “غیر معمولی حکمت عملی” کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
وزیر داخلہ لارنٹ نیونیز نے پولیس کی تعیناتی پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی “کمزور نہیں” تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دو پولیس اہلکار بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے، جن میں سے ایک کو پتھر لگا تھا۔
