اسلام آباد: وزارت خارجہ کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر آئیں گے۔ ان کے ہمراہ خاتون اول ساجدہ محمد اور وزراء و اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک وفد بھی ہوگا۔
صدر مملکت سے ملاقات اور اعزازی ضیافت
دورے کے دوران مالدیپ کے صدر پاکستان کے صدر سے ملاقات کریں گے، جبکہ صدرِ مملکت ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دیں گے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔
دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ
دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، سمندری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے مواقع تلاش کریں گے۔ وہ خطے اور دنیا کی تازہ صورتحال پر بھی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان-مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد
دورے کے دوران پاکستان-مالدیپ بزنس فورم بھی منعقد ہوگا جس کا مقصد دونوں ملکوں کے کاروباری طبقات کے درمیان رابطوں کو فروغ دینا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
متعدد معاہدوں اور مفاہمت ناموں پر دستخط متوقع
سرکاری دورے کے دوران دو طرفہ تعاون کے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت ناموں پر دستخط متوقع ہیں۔
گیارہ سال بعد پہلا سرکاری دورہ، 60 سالہ سفارتی تعلقات کی یادگار
یہ گیارہ سال کے بعد مالدیپ کے صدر کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جس کی خاص اہمیت ہے کیونکہ دونوں ممالک 1966 میں قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مشترکہ عقیدے، باہمی احترام، دیرینہ خیرسگالی اور علاقائی و بین الاقوامی فورموں پر قریبی تعاون کی بنیاد پر گرم جوش اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔
