پیرس: فرانس بھر میں جمعرات، 5 نومبر کو طلبہ، اساتذہ اور مزدوروں کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں 193 ریلیوں میں کل 575,000 افراد نے حصہ لیا، جبکہ ٹریڈ یونین CGT نے مظاہرین کی تعداد 1.6 ملین بتائی ہے۔
یہ مظاہرے اجرتوں میں اضافے اور قوتِ خرید کے تحفظ کے مطالبے پر منعقد کیے گئے، جن کا اہتمام بین الیونین نے کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، یہ احتجاج ستمبر میں شروع ہونے والی سماجی تحریک کا تسلسل ہے، جس میں طلبہ اور نوجوان کارکنان کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
احتجاج کا پس منظر اور حکومتی ردعمل
تین ہفتوں سے جاری سماجی احتجاج کے بعد، وزیرِ اعظم سیباستیان لیکورنو نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر، 9 نومبر کو میٹیگنن میں ٹریڈ یونینوں اور آجر تنظیموں کے ساتھ ایک “سماجی کانفرنس” طلب کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد “قوتِ خرید اور اجرتوں کے مسائل کے حل” پر غور کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم نے لیبر منسٹر جین پیئر فارانڈو کو ہدایت دی ہے کہ وہ اتوار تک ان موضوعات پر جاری مشاورت کو حتمی شکل دیں، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کے وزیر ڈیوڈ امیل عوامی خدمات کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مظاہروں کی تفصیلات
- ملک بھر میں 193 ریلیاں منعقد ہوئیں، جن میں طلبہ، اساتذہ اور مزدوروں نے شرکت کی۔
- وزارتِ داخلہ کے مطابق کل شرکاء کی تعداد 575,000 تھی، جبکہ CGT نے 1.6 ملین کا دعویٰ کیا۔
- مظاہرین نے اجرتوں میں اضافے اور سماجی تحفظ کے مطالبے پر زور دیا۔
- یہ احتجاج ستمبر میں شروع ہونے والی تحریک کا حصہ ہے، جس میں نوجوانوں کی شرکت نمایاں رہی۔
مظاہروں کے دوران، طلبہ اور نوجوان کارکنان نے یکجہتی کے جذبے کا اظہار کیا، جس سے سماجی تحریک کو مزید تقویت ملی۔ حکومت کی جانب سے سماجی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اس تحریک کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان کے خدشات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
واضح رہے کہ فرانس میں یہ احتجاجی تحریک حالیہ برسوں میں سماجی و اقتصادی مسائل کے حوالے سے عوامی عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے، جس میں اجرتوں میں اضافے اور قوتِ خرید کے تحفظ کے مطالبات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
