واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وانس نے فرانس میں جاری پرتشدد مظاہروں کا ذمہ دار امیگریشن پالیسی کو قرار دیتے ہوئے پیرس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کو مزید سخت کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ٹرمپ کا سخت بیان
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ “فرانس جل رہا ہے!” انہوں نے الزام عائد کیا کہ “مکمل طور پر مختلف دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی امیگریشن، جن کے دلوں میں نفرت بھری ہوئی ہے، نے اس عظیم ملک کو تباہ کر دیا ہے۔” امریکی صدر نے مزید کہا کہ “اپنی سرحدیں بند کریں اور کنٹرول حاصل کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے!”
واضح رہے کہ اس سے قبل چھ اکتوبر کو بھی ٹرمپ نے فرانس میں طلبہ کی تحریک میں مداخلت کرتے ہوئے اسلام اور “بے قابو بڑے پیمانے پر امیگریشن” کو اس کی وجہ قرار دیا تھا۔
وانس کا بیان اور امریکی سیاست سے موازنہ
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے ہفتے کے روز ہی فرانس میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار امیگریشن کو ٹھہراتے ہوئے ڈیموکریٹک اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ کے لیے بھی ایسا ہی “مستقبل” چاہتے ہیں۔
وانس نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ “مغربی ترقی پسندوں نے تنوع اور ہمدردی کے نام پر فرانس اور دیگر ممالک میں تیسری دنیا کو درآمد کیا ہے۔ انہوں نے انضمام اور مطابقت کے بنیادی سوالات کو نظر انداز کیا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس کا انجام یہی ہوگا لیکن انہوں نے نہیں سنا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “میں دعا کرتا ہوں کہ فرانس، جو ایک خوبصورت ملک اور شاندار لوگوں کا مسکن ہے، مزید یادگاروں کے جلنے سے پہلے اس جنون کا خاتمہ کرے۔” یہ بیان انہوں نے لیموژس میں ٹاؤن ہال میں آگ لگنے کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا۔
امریکی انتخابات سے جوڑ
وانس، جنہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نے اس واقعے کو تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے بھی جوڑا، جن میں ریپبلکن پارٹی کی موجودہ صورتحال کو کمزور قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “مجھے امید ہے کہ امریکی توجہ دے رہے ہیں۔ یہ وہی مستقبل ہے جو ڈیموکریٹک قانون ساز ہمارے ملک کے لیے چاہتے ہیں۔”
42 سالہ وانس، جو ریپبلکن پارٹی کے انتہائی قوم پرست اور شناختی دھڑے کی نمائندگی کرتے ہیں، اکثر یورپ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور انہیں نرم قرار دیتے ہیں۔ فروری 2025 میں میونخ میں اپنی ایک تقریر میں بھی انہوں نے اس حوالے سے یورپیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
فرانس میں صورتحال
فرانس میں “مہنگی زندگی” کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران ہفتے کے روز پرتشدد واقعات، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار نے شدت اختیار کر لی، جس کے بعد حکومت شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون اتوار کی شام آٹھ بجے ایک اہم خطاب کریں گے۔
