پیرس: فرانس کے وزیرِ انصاف جیرالڈ دارمینن نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے آخر میں ملک بھر میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے بعد دو ہزار تین سو اکتیس افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ درجنوں افراد کو عبوری قید میں رکھا گیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے فرانس ٹو ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔
گرفتاریوں اور قانونی کارروائی کی تفصیلات
وزیرِ انصاف کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں ستر فیصد بالغ ہیں، جن میں سے بیشتر پولیس کے لیے پہلے سے شناسا تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسّی فیصد سے زائد افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور درجنوں کو عبوری قید میں بھیجا گیا ہے، جن میں تیرہ صرف مارسیے میں ہیں۔
- ہفتے کے آخر میں کل دو ہزار تین سو اکتیس افراد حراست میں لیے گئے
- ستّر فیصد حراستی افراد بالغ اور پولیس کے لیے شناسا
- اسّی فیصد سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج
- درجنوں افراد عبوری قید میں، جن میں تیرہ مارسیے میں
دکانوں کی لوٹ مار اور پولیس پر حملوں کے خلاف سخت ہدایات
دارمینن نے کہا کہ انہوں نے پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی ہے کہ جو بھی دکانوں کی لوٹ مار کرے یا پولیس اہلکاروں پر حملہ کرے، اس کے لیے عبوری قید کی درخواست کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد اور توڑ پھوڑ کے پیش نظر قانونی ردعمل انتہائی سختی سے دیا جائے گا۔
انٹیلی جنس ناکامی کا اعتراف
وزیرِ انصاف نے تسلیم کیا کہ ہفتے کے آخر میں ملک میں پھیلنے والی پرتشدد کارروائیوں کے حوالے سے حکام کی جانب سے واضح ناکامی ہوئی ہے اور انٹیلی جنس معلومات میں خامی رہی۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی انٹیلی جنس ادارے اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں اور منظم جرائم کے خلاف بھی مضبوط ہیں، لیکن بظاہر وہ انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پا رہے۔
انتہائی بائیں بازو کی سیاسی ذمہ داری پر تنقید
دارمینن نے ایک بار پھر انتہائی بائیں بازو کی سیاسی جماعت لا فرانس انسومیز پر تشدد کی سیاسی ذمہ داری ڈالی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ تحریک ملک کے اداروں کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے اور اس نے صورتحال کو مزید بھڑکانے کا کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں انتہائی بائیں بازو کے عناصر ملک کے اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے، جو ایک سنگین خطرہ ہے۔
بلدیاتی دفاتر اور دکانوں کو نقصان
ہفتے کے آخر میں مارسیے اور لیموژ سمیت متعدد مقامات پر بلدیاتی دفاتر کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دکانیں تباہ ہوئیں۔ حکام نے ملک بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔
