انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے مالی میں جاری تنازعے کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ملکی فوج، اس کے روسی پیراملٹری اتحادیوں اور مسلح باغی گروہوں کو جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، ملکی فوج اور اس کے اتحادیوں نے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا، جبکہ باغی گروہوں نے بھی بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالی کی ہے۔
تنازعے کا پس منظر
مالی 2012 سے ایک گہرے سیکیورٹی بحران سے دوچار ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں جہادی گروہوں کی تشدد، قبائلی جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں اور تواریگ علیحدگی پسند تحریکوں کی کارروائیاں شامل ہیں۔ 2020 اور 2021 میں دو فوجی بغاوتوں کے بعد اقتدار میں آنے والی فوجی حکومت نے جہادیوں کے خلاف اپنی مہم میں مدد کے لیے روس کا رخ کیا۔ اس سلسلے میں حکومت نے ویگنر گروپ کی خدمات حاصل کیں، جو 2025 میں ‘افریقہ کور’ کے نام سے تبدیل ہو چکا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران، فوج اور اس کے روسی پیراملٹری اتحادیوں کی جانب سے شہریوں کے خلاف کیے گئے مظالم کی کئی رپورٹس میں دستاویزی طور پر تصدیق کی گئی ہے۔
شہریوں کے خلاف ہلاکتوں کی تفصیلات
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، مالی کی فوج اور اس کے روسی اتحادیوں نے ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں حملوں اور حراست کے دوران درجنوں شہریوں کو ہلاک اور زخمی کیا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے ‘مالی کے ڈرون حملوں کے دو واقعات کی دستاویز بندی کی ہے، جو بظاہر اندھا دھند تھے۔’
- 29 جولائی کا حملہ: شمالی علاقے کیدال کے گاؤں تلہندک میں کیا گیا، جس میں ایک صحت مرکز کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا۔
- 19 اگست کا حملہ: وسطی علاقے بندیارا کے قصبے ٹمبونکورے کے ایک بازار پر کیا گیا، جس میں چھ شہری ہلاک اور کم از کم بیس زخمی ہوئے۔
- 12 جولائی کا واقعہ: وسطی علاقے سیگو میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مالی فوجیوں نے پانچ لڑکیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا۔
- 27 اور 28 جولائی کے واقعات: وسطی علاقے موپٹی میں فوج کے اتحادی ڈوزو ملیشیا کے ارکان نے تین شہریوں کو ہلاک کیا۔
باغی گروہوں کے مظالم
انسانی حقوق کی اس تنظیم نے اسلامی اور تواریگ علیحدگی پسند جنگجوؤں پر بھی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان گروہوں نے مالی کے قیدی فوجیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں پھانسی دے دی، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور تشویش
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مالی میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے یہ دستاویزی رپورٹ ملکی فوجی حکومت اور اس کے روسی اتحادیوں کے خلاف شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہے، جبکہ باغی گروہوں کی جانب سے بھی جنگی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
