پشاور: قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کے رکن اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 19 کے تحت نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
نیب کے مطابق یہ تحقیقات ڈاکٹر امجد علی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے، بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات سے متعلق ہیں۔
چار گواہان طلب
بیورو نے چار گواہان — بچہ سید، محمد عارف شاہ، سراج احمد اور نوید احمد — کو طلب کیا ہے تاکہ 20 سے 22 اکتوبر کے دوران ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکیں اور متعلقہ دستاویزات فراہم کی جا سکیں۔
پلاٹوں کا ریکارڈ طلب
نیب نے اسلام آباد کی ایٹین ہاؤسنگ سوسائٹی اور جالوزئی ہاؤسنگ اسکیم سے منسلک پلاٹوں کی الاٹمنٹ، ملکیت اور ادائیگیوں سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
محکمہ اکاؤنٹس کو ہدایت
خیبر پختونخوا کے محکمہ اکاؤنٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر امجد علی کی تنخواہ، الاؤنسز، مراعات اور سفری اخراجات کا ریکارڈ فراہم کرے۔
- تحقیقات کا دائرہ کار آمدن سے زائد اثاثوں، بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات تک محدود ہے۔
- نیب نے خبردار کیا ہے کہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی، بشمول استغاثہ، کی جا سکتی ہے۔
- بیورو کے مطابق نوٹسز جاری کرنا بذات خود کسی غلط فعل کا ثبوت نہیں ہے۔
