ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے جمعرات پانچ نومبر کو جمہوریت نواز کارکن جوشوا وونگ کو قومی سلامتی قانون کے تحت غیر ملکی ممالک سے ملی بھگت کے الزام میں مزید 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا ایسے وقت میں دی گئی ہے جب وونگ پہلے ہی تقریباً چھ سال جیل میں گزار چکے ہیں، اور اس فیصلے کے بعد انہیں ممکنہ طور پر چالیس سال کی عمر تک قید میں رہنا پڑ سکتا ہے۔
نئی سزا کی تفصیلات
تیس برس کے قریب عمر کے جوشوا وونگ، جو 2019 کے بڑے احتجاجی مظاہروں کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، نے ستمبر میں غیر ملکی طاقتوں سے ملی بھگت کے نئے الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔ اس جرم کی سزا عمر قید تک بھی ہو سکتی تھی۔
وونگ جنوری میں رہا ہونے والے تھے، کیونکہ انہوں نے 2020 میں چین کی جانب سے ہانگ کانگ پر مسلط کیے گئے قومی سلامتی قانون کے تحت “بغاوت” کے جرم میں چار سال آٹھ ماہ کی سزا پوری کر لی تھی۔ تاہم ہانگ کانگ کے حکام نے جون 2025 میں اسی قانون کا استعمال کرتے ہوئے ان پر، جلاوطن سابق رکن پارلیمنٹ ناتھن لا اور دیگر کے ساتھ، یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے غیر ملکی ممالک اور اداروں سے ہانگ کانگ اور چین کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں مدد کی درخواست کی، جن میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بیان دینا بھی شامل ہے۔
سزا کا پس منظر
وونگ پر الزام تھا کہ انہوں نے غیر ملکی ممالک، افراد یا اداروں سے، خاص طور پر بین الاقوامی میڈیا میں بولتے ہوئے، چین اور ہانگ کانگ کے خلاف “پابندیاں یا محاصرہ عائد کرنے یا دیگر معاندانہ سرگرمیوں” کی درخواست کی۔
سزا سنائے جانے کے بعد سیاہ فریم کے چشمے پہنے یہ کارکن اپنے حامیوں کی جانب متوجہ ہوئے اور سر ہلا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ حامیوں نے انہیں جواب دیا: “ہم آپ کی رہائی کا انتظار کریں گے۔”
انسانی حقوق تنظیموں کا ردعمل
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اس سزا کو “ظالمانہ اور غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے غیر ملکی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ “ہانگ کانگ میں بڑھتے ہوئے جبر کے ذمہ داروں کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کریں”۔
لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اسٹیو سانگ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے جوشوا کو 2019 کی اس “کھلی بغاوت” کے اہم رہنماؤں میں شمار کیا، حالانکہ وونگ خود اعتدال پسندوں میں سے ہیں، اور اب انہیں مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سزا یہ پیغام دینے کے لیے ہے کہ بیجنگ “ہانگ کانگ کو مضبوطی سے اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اور 2019 سے پہلے کے زیادہ آزادانہ دنوں میں واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے”۔
