انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ سٹیفن فلیمنگ نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کی کوچنگ بنیادی طور پر کسی مقامی نمائندے کے سپرد ہونی چاہیے اور وہ اپنے دور میں انگلینڈ کے مقامی کوچنگ ٹیلنٹ کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں گے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق، 53 سالہ نیوزی لینڈ کے سابق کھلاڑی فلیمنگ کو جولائی میں ان کے ہم وطن برینڈن میک کولم کی جگہ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل آسٹریلوی ٹریور بیلیس، زمبابوے کے ڈنکن فلیچر اور اینڈی فلاور بھی انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں، اور فلیمنگ اس عہدے پر فائز ہونے والے پانچویں غیر ملکی کوچ ہیں۔
بی بی سی کے ایک پوڈکاسٹ میں فلیمنگ نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ قومی ٹیم کی کوچنگ کا بنیادی حق ملک کے ہی کسی نمائندے کو حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “میں اس موقع پر شکر گزار ہوں، لیکن کوچنگ کے حوالے سے کچھ ترقی بھی ہوگی، اور آپ ہمارے اسٹاف کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔”
سابق انگلش کھلاڑیوں کو اسٹاف میں شامل کیا
فلیمنگ نے گزشتہ ہفتے اپنے اسٹاف کا اعلان کیا تھا جس میں سابق انگلش کھلاڑی مارکس ٹریسکوتھک، رچرڈ ڈاسن اور جیمز فوسٹر شامل ہیں۔ ان کا یہ اقدام مقامی کوچنگ ٹیلنٹ کی تیاری کی سمت ایک عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
میک کولم کے ساتھ کام کرنے کے تعلقات پر زور
فلیمنگ نے اپنے سابق نیوزی لینڈ ساتھی برینڈن میک کولم کے ساتھ اچھے کام کرنے والے تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ میک کولم فی الحال انگلینڈ کی محدود اوورز کی ٹیم کے کوچ ہیں، جبکہ اگلے سال ایشز سیریز اور کرکٹ ورلڈ کپ دونوں شیڈول پر ہیں۔
انہوں نے کہا، “کسی نہ کسی مرحلے پر آپ کو اپنے کچھ اہم اثاثے چھوڑنے پڑتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آگے کیا آ رہا ہے، ہمارے لیے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہے۔”
فلیمنگ کے مطابق، اس کے بعد ایشز سیریز آتی ہے جو کہ اگلی گرمیوں کی سب سے اہم تقریب ہے، اور پھر ورلڈ کپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا کہ کھلاڑی ان اہم مقابلوں کے لیے مکمل طور پر فٹ ہوں اور ہم مضبوط ٹیمیں میدان میں اتاریں، ایک چیلنج ہوگا۔
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز دسمبر میں
واضح رہے کہ انگلینڈ کی ٹیم دسمبر سے شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے جنوبی افریقہ کا دورہ کرے گی۔ یہ فلیمنگ کے لیے بطور ٹیسٹ کوچ پہلا بڑا امتحان ہوگا، جس کے بعد اگلے سال ایشز اور ورلڈ کپ جیسے اہم ایونٹس میں ان کی حکمت عملی کا اصل امتحان ہوگا۔
فلیمنگ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلینڈ کرکٹ میں غیر ملکی کوچز کے کردار پر بحث جاری ہے، اور ان کا مقامی کوچنگ ٹیلنٹ کی تربیت کا عزم اس بحث میں ایک اہم اضافہ ہے۔
