کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی کے حوالے سے ہونے والے ایک اہم ریفرنڈم میں ووٹرز نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں زبردست اکثریت سے ووٹ دیا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق 76 فیصد سے زائد ووٹرز نے کینیڈا کے اندر رہنے کا انتخاب کیا، جبکہ علیحدگی پسندوں کو صرف 23 فیصد ووٹ ملے۔ یہ نتیجہ وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
ریفرنڈم کا پس منظر اور ووٹنگ کا عمل
تیل کی دولت سے مالا مال مغربی صوبے البرٹا میں پیر 20 اکتوبر کو یہ ووٹنگ ہوئی، جسے کینیڈا کی وحدت کے لیے ایک آزمائشی مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا۔ ووٹرز کے پاس دو آپشنز تھے: یا تو کینیڈا کے اندر رہا جائے، یا پھر صوبائی حکومت کو علیحدگی کے حوالے سے ایک پابند ریفرنڈم کرانے کا مینڈیٹ دیا جائے۔
سی بی سی اور سی ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق، کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامیوں نے 76 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے، جبکہ علیحدگی پسند تحریک کے حمایتیوں کو تقریباً 23 فیصد ووٹ ملے۔ یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب کینیڈا واشنگٹن کے ساتھ تجارتی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔
وزیر اعظم مارک کارنی کی کامیابی
یہ نتیجہ وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے، جو خود البرٹا میں پلے بڑھے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے صوبے کا دورہ کیا اور کینیڈا کی وحدت کے حامیوں سے بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔
ووٹنگ سے قبل وزیر اعظم کارنی نے کہا تھا: “کینیڈا اس قابل ہے کہ اس کے لیے لڑا جائے… کینیڈا کے حق میں ووٹ دیں۔” ان کی اس اپیل کو البرٹا کے عوام نے زبردست پذیرائی بخشی۔
علیحدگی پسند تحریک کا ردعمل
البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کچھ عرصے سے فعال تھی، جس کی قیادت مقامی رہنما کر رہے تھے۔ تاہم، اس ریفرنڈم کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ صوبے کی اکثریتی آبادی کینیڈا کے ساتھ اپنے تعلق کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ ووٹنگ کینیڈا میں موجود سیاسی اور سماجی تقسیم کو بھی اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر ٹرمپ ازم اور تیل کی سیاست کے تناظر میں۔
آگے کیا ہوگا؟
اس ریفرنڈم کے نتائج کے بعد البرٹا میں علیحدگی کی بحث کم از کم فی الحال دم توڑتی نظر آتی ہے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
وزیر اعظم کارنی نے اس موقع پر کینیڈا کے تمام صوبوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا ہے، اور کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کے تمام حصوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی رہے گی۔
