اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے محمد یامین کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کے اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں (اے ٹی سی) کے ججز کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا تھا، اور سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی ایک طرف رکھ دیا ہے جس میں حکومتی اقدام کو برقرار رکھا گیا تھا۔
عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے 22 دسمبر 2025 کے فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا۔ جسٹس محمد کریم خان آغا نے اس مقدمے میں تحریری فیصلہ جاری کیا۔
نئی عمر کی حد ماضی پر لاگو نہیں
تحریری فیصلے کے مطابق 65 سال کی نئی بالائی عمر کی حد ان ججز پر لاگو نہیں ہوتی جن کی تقرری انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم سے قبل مقررہ مدت کے لیے کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماضی میں قانونی طور پر حاصل کردہ حق کو واضح قانونی دفعات کے بغیر چھینا نہیں جا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے حکم دیا کہ ترمیم سے قبل تعینات ججز اپنی اپنی مقررہ مدت کی تکمیل تک عہدے پر برقرار رہیں گے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سندھ انسدادِ دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2025 کو ماضی پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار کی مدت ملازمت مکمل ہوگی
فیصلے کے تحت درخواست گزار محمد یامین کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر چار میں بطور جج اپنی ڈھائی سالہ مدت ملازمت مکمل کریں گے۔
محمد یامین کو 19 ستمبر 2024 کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ڈھائی سال کی مدت کے لیے کراچی کی اے ٹی سی-IV کا جج تعینات کیا گیا تھا۔ تقرری کے وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی، تاہم اس وقت متعلقہ قانون میں اے ٹی سی جج کی تعیناتی کے لیے کوئی بالائی عمر کی حد مقرر نہیں تھی۔
بعد ازاں سندھ انسدادِ دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2025 کے ذریعے ججز کی تعیناتی اور عہدے پر برقراری کے لیے زیادہ سے زیادہ 65 سال کی عمر کی حد متعارف کرائی گئی۔ ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے محمد یامین سمیت تین ججز کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو برقرار رکھا تھا، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے یامین کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے اور ججز کو ہٹانے کے نوٹیفکیشن دونوں کو کالعدم قرار دے دیا۔
