سڈنی: آسٹریلیا کے کھیل کمیشن (اے ایس سی) نے کہا ہے کہ نوجوان اور ہونہار کھلاڑیوں کو ایک ہی کھیل میں جلدی مہارت حاصل کرنے کے بجائے مختلف کھیلوں اور کھیل کود میں حصہ لینے کی ترغیب دینا طویل مدتی بہتر نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق کمیشن نے منگل کے روز اپنے 2019 کے رہنما اصولوں کی توسیع کرتے ہوئے ایک پوزیشن اسٹیٹمنٹ جاری کی جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی کھلاڑی کو صرف ایک کھیل تک محدود کرنے کا فیصلہ بچے کی اپنی خواہش اور اس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
کم عمری میں مہارت: بڑھتا رجحان اور خطرات
بیان میں کہا گیا ہے کہ کم عمر کھلاڑیوں کا ایک ہی کھیل میں جلدی مہارت اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور اس حوالے سے شواہد بتاتے ہیں کہ اس عمل کے ساتھ کئی ممکنہ منفی نتائج وابستہ ہیں۔
کمیشن کے مطابق سب سے مضبوط اور مستقل شواہد زیادہ استعمال سے ہونے والی چوٹوں اور تھکن (برن آؤٹ) سے متعلق ہیں، خصوصاً ایسے مواقع پر جب مہارت کے لیے بار بار کی مشق، سال بھر مقابلے اور ناکافی آرام شامل ہو۔
- کم عمری میں ایک کھیل پر توجہ دینے سے چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
- کھیل سے دلچسپی کم ہونے اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے
- زندگی کے معیار میں کمی کا امکان بھی موجود ہے
بچے کی خواہش اور نشوونما کو ترجیح
بیان کے مطابق یہ خطرات اس وقت زیادہ ہو سکتے ہیں جب مہارت بہت کم عمری میں شروع ہو، کھلاڑی نشوونما کے لحاظ سے تیار نہ ہو، یا یہ فیصلہ بیرونی دباؤ یا ادارہ جاتی ساخت کی وجہ سے تھوپا جائے۔
کمیشن نے واضح کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ بعض منفی نتائج براہ راست مہارت کی وجہ سے ہیں یا ان کی بنیادی وجہ زیادہ تربیتی بوجھ، محدود آرام اور تجربات کی کمی ہے جو اس عمل کے ساتھ آتی ہے۔
کھیل کود پر مبنی سرگرمیاں بہتر
بیان میں کہا گیا کہ اسکیٹ بورڈنگ، بی ایم ایکس سائیکلنگ اور اسپورٹ کلائمبنگ جیسے کھیل اس حوالے سے کم مسئلہ ہیں کیونکہ ان میں مہارت کھیل کود، تجربے اور خود رہنمائی کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ بعض بچوں نے انہی کھیلوں میں اولمپک سطح پر کامیابی بھی حاصل کی ہے۔
آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ کے ڈائریکٹر مٹی کلیمنٹس نے کہا کہ کھلاڑی کی نشوونما کا کوئی ایک مقررہ راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیل میں مہارت کے لیے مناسب وقت اور طریقہ کار کھلاڑی، کھیل اور اس ماحول کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس میں نشوونما ہو رہی ہے۔
