اسلام آباد: چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو مثبت قرار دیا۔ یہ ملاقات جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوطرفہ تعلقات اور دفاعی تعاون پر گفتگو
ملاقات میں پاکستان کے اعلیٰ فوجی کمانڈر اور مہمان صدر کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقوں نے ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ذرائع کے مطابق گفتگو میں موجودہ علاقائی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مستحکم کرنے کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں جانب سے دفاعی شعبے میں روابط کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
علاقائی سلامتی اور امن و استحکام
ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں امن و استحکام کو مرکزی موضوع قرار دیا گیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان طویل المدتی اور خوشگوار تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم پر بھی زور دیا اور ملکوں کے درمیان مسلسل مکالمے اور تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
مالدیپ کے صدر کا پاک فوج کی تعریف
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور خطے بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کے ریمارکس پاکستان کی فوجی صلاحیتوں اور علاقائی مصروفیات کے حوالے سے مثبت جائزے کی عکاسی کرتے ہیں۔
دونوں فریقوں نے مضبوط تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا اور دفاعی تعلقات، ادارہ جاتی روابط اور پیشہ ورانہ رابطوں کو گہرا کرنے کے امکانات پر غور کیا۔
- دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال
- دفاعی تعاون اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق
- مالدیپ کے صدر کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین
- خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی روابط، ادارہ جاتی رابطوں اور پیشہ ورانہ تعامل کو وسعت دینے کے امکانات موجود ہیں۔
