ہالی ووڈ کے مشہور ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی فلم “اوڈیسی” کی ریلیز سے قبل ایلون مسک نے اپنی مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اسی موضوع پر ایک سیریز بنانے کا اعلان کیا تھا، جسے اب سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔
گروک امیجین (Grok Imagine) کے نام سے ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر جاری کی گئی اس سیریز کی پہلی قسط میں ہومر کی مشہور نظم “اوڈیسی” کے کرداروں کو پیش کیا گیا ہے، تاہم اسے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔
ایلون مسک کا اعلان اور نولان پر تنقید
واضح رہے کہ گزشتہ موسم گرما میں ایلون مسک نے کرسٹوفر نولان کی فلم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نولان نے “اوڈیسی” کو مسخ کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ہیلن آف ٹرائے کے کردار کے لیے لیوپیتا نیونگو کو منتخب کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔ اسی تناظر میں مسک نے اپنی کمپنی کی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے “اوڈیسی” کا اپنا ورژن بنانے کا فیصلہ کیا۔
یہ سیریز ونڈر اسٹوڈیوز اور مصنوعی ذہانت کے ماہر ہدایت کار ڈیو واکر کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ گروک کے X اکاؤنٹ پر جاری کی گئی پہلی ویڈیو میں اوڈیسی کے کردار یولیسس کو ایتھاکا سے روانہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ اپنی اہلیہ پینیلوپ اور شیر خوار بیٹے ٹیلیماکس کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید
ویڈیو جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک بیلجیئم کے یوٹیوبر نے لکھا کہ “یہ بالکل ویسا ہی بیکار ہے جیسا کہ توقع تھی۔” ایک اور صارف نے کہا کہ “یہ ایلون مسک کی پسند کو مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے، یہ بالکل فضول ہے۔”
بہت سے صارفین نے ویڈیو کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کرداروں کی دھندلی نظروں، بے ترتیب حرکتوں اور مصنوعی آوازوں کی نشاندہی کی۔ کئی صارفین نے یہ بھی لکھا کہ وہ کرسٹوفر نولان کا ردعمل دیکھنا چاہیں گے۔
تاریخی غلطیوں پر بھی سوال
ایلون مسک نے جولائی میں X پر اعلان کیا تھا کہ وہ 2026 کے آخر تک “اوڈیسی کا ایک تاریخی طور پر درست ورژن” پیش کریں گے جو ہومر کے فنی وژن کے مطابق ہوگا۔ تاہم صارفین نے اس دعوے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
- ایک صارف نے پوچھا کہ کردار انگریزی میں کیوں بول رہے ہیں۔
- کئی صارفین نے نشاندہی کی کہ کشتیاں وائی کنگ طرز کی دکھائی دیتی ہیں۔
- مناظر اور ملبوسات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ اسکاٹ لینڈ میں بنائی گئی ہوں۔
واضح رہے کہ کرسٹوفر نولان کی “اوڈیسی” فلم نے اب تک 1.5 بلین ڈالر سے زائد کی کمائی کی ہے اور یہ یونیورسل اسٹوڈیو کی اب تک کی سب سے کامیاب فلم قرار دی گئی ہے۔
