کراچی: سندھ حکومت نے میر رضا کیس میں عدالتی کمیشن کی سفارشات پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن چوبیس گھنٹوں کے اندر جاری کیا جائے گا۔
ڈنیا نیوز کے مطابق یہ فیصلہ میر رضا کیس سے متعلق قائم کابینہ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا، جس میں صوبائی وزرا سید ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد دیرو نے شرکت کی۔ کمیٹی کے ارکان نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی اور عدالتی کمیشن کی سفارشات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انہیں آگاہ کیا۔
عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر ابتدائی سفارشات تیار
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر جائزہ اجلاس میں ابتدائی سفارشات مرتب کر لی گئی ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے یہ سفارشات وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے رپورٹ کے پہلے جائزہ اجلاس میں ہونے والی پیش رفت اور سفارشات پر تفصیلی غور و خوض کیا، جس کے بعد مزید اقدامات کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں کوتاہی کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے الگ ٹیم
عدالتی کمیشن کی سفارشات پر سندھ حکومت نے جے آئی ٹی کے علاوہ ایک اور تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیم ان ٹیموں کی کوتاہی اور غفلت کی نشاندہی کرے گی جنہوں نے کیس کی ابتدائی تفتیش کی تھی۔
اس اقدام کا مقصد کیس کی تفتیش کے دوران ابتدائی مرحلے میں ہونے والی ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کرنا اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت: تمام سفارشات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمیٹی کی تمام سفارشات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس نے صوبائی حکومت کے لیے تفتیشی عمل میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں، اور حکومت کی جانب سے کیے گئے ان اقدامات کو اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
