واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور سیاسی و مذہبی پسپائی کا سامنا ہے۔ امریکی کیتھولک بشپس کانفرنس (USCCB) نے واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اوول آفس میں منعقدہ اس نماز کی تقریب سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھتی جس میں صدر ٹرمپ نے شرکت کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس تقریب کو “کیتھولک بشپس اور آرچ بشپس” کی موجودگی میں ایک روحانی لمحہ قرار دیا گیا تھا، تاہم چرچ کی اعلیٰ ترین انتظامی تنظیم نے اسے مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا دعویٰ اور چرچ کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں صدر ٹرمپ کو اوول آفس میں اپنی میز پر بیٹھے دکھایا گیا، جبکہ ان کے گرد و نواح میں مذہبی لباس میں ملبوس افراد موجود تھے۔ صدر ٹرمپ کی ایک مشیر مارگو مارٹن نے 27 سیکنڈ پر مشتمل یہ ویڈیو شیئر کی جس میں ایک مذہبی رہنما نے صدر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز میں دعا کی۔ مارٹن نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا، “آرچ بشپس اور کیتھولک بشپس اوول آفس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔”
تاہم، امریکی کیتھولک بشپس کانفرنس کی جانب سے اس معاملے پر سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ کانفرنس کے ترجمان چیکو نوگوچی نے واضح کیا کہ اس تقریب کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کا اہتمام کانفرنس نے کیا ہو۔ اس کا کانفرنس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے پاس اس حوالے سے مزید کوئی معلومات نہیں ہیں۔”
تقریب کی تفصیلات اور شرکاء
وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع کے مطابق، اس موقع پر 13 مذہبی رہنماؤں کو جمع کیا گیا تھا، جن میں ڈینور، ملواکی اور کنساس سٹی کے آرچ بشپس شامل تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ کی جانب سے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اس طرح کی تصاویر یا ویڈیوز سامنے آئی ہوں۔ اس سے قبل 2025 میں قومی یومِ دعا کے موقع پر بھی وائٹ ہاؤس نے اسی طرز کی ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں ایک شخص صدر ٹرمپ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا نظر آیا تھا۔
اس کے علاوہ، ایک سال بعد صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کے نیشنل مال گراؤنڈ میں “قومی دعا” کے ایک “میراتھن” کا اہتمام کیا تھا، جس کے لیے جزوی طور پر سرکاری فنڈز بھی استعمال کیے گئے تھے۔ ان واقعات کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ اور کیتھولک چرچ کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پوپ لیو چودہویں نے تارکین وطن کی ملک بدری کی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر کھل کر تنقید کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا دفاع
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایجنسی فرانس پریس سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا دفاع کیا اور کہا کہ “امریکی کیتھولک عوام کے لیے صدر ٹرمپ سے بہتر کوئی صدر کبھی نہیں رہا۔” یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چرچ کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اس تقریب سے لاتعلقی ظاہر کی گئی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی امور میں انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے دعوؤں اور کلیسائی اداروں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔
