امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں ایک والدہ نے اپنی چھ سالہ بیٹی کے اسکول پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے والدین کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے ذریعے بچی کی ایک “بالغ شکل” تیار کی، جس نے بچوں کی پرائیویسی اور تخلیقی صلاحیتوں سے متعلق نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
واقعہ کیا ہے؟
نکی اینڈرسن نامی 32 سالہ والدہ، جو ساؤتھ کیرولائنا میں مقیم ہیں، نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی ہارپر کے اسکول نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بچی کی ایک فرضی تصویر بنائی جس میں اسے 25 سال کی عمر میں دکھایا گیا۔ تصویر میں ہارپر کو نرس کے لباس میں پیش کیا گیا تھا، جو اس کا مستقبل کا خواب ہے۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی اور متعدد والدین اور اساتذہ نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔ نکی اینڈرسن نے میگزین کو بتایا کہ وہ اس صورتحال پر حیران اور پریشان ہیں اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی کسی استاد نے ان کی بیٹی کی تصویر کسی بیرونی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے خطرات کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔
تخلیقی صلاحیتوں پر اثرات
نکی اینڈرسن کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ان خطرات کی عکاسی کرتا ہے جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے کاغذ، قینچی اور گلو کی مدد سے اپنی نرس بننے کی ایک تصویر خود بنائی تھی، جس میں ہر تفصیل بچی کے اپنے تخیل اور فیصلوں کا نتیجہ تھی۔ ان کے مطابق یہی بچوں کی تخلیقی صلاحیت، تصور اور ذہنی نشوونما کا حقیقی مظہر ہے۔
والدہ نے سوال کیا کہ چھ سال کے بچے پہلے ہی تخلیقی اور جدت پسند ہوتے ہیں اور وہ ایسے مستقبل کا تصور کر سکتے ہیں جو بڑوں کے لیے بھی غیر متوقع ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہارپر اس عمر میں ہے جہاں دنیا امکانات سے بھری ہوئی ہے اور اسے یہ بتانے کے لیے کمپیوٹر کی ضرورت نہیں کہ وہ کیا بن سکتی ہے۔
بچی کی خود شناسی پر اثر
نکی اینڈرسن نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ مصنوعی تصویر ان کی بیٹی کی اپنی ذات کے بارے میں غلط تصور پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہارپر نے تصویر کو پسند کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بال سیدھے اور لہردار ہیں جیسا کہ وہ ہمیشہ سے چاہتی تھی اور وہ امید کرتی ہے کہ بڑی ہو کر وہ بھی اتنی خوبصورت ہوگی۔ والدہ نے بچی کو بتایا کہ یہ صرف ایک مفروضہ ہے اور حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔
پرائیویسی اور رضامندی کے سوالات
اس واقعے نے ایک اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ اسکول نے طلبہ اور والدین کی اجازت کے بغیر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کیسے کیا۔ نکی اینڈرسن نے مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ کون سا سافٹ ویئر استعمال ہوا، کیا یہ کوئی بیرونی پلیٹ فارم تھا اور ان تصاویر کا آگے کیا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر والدین کو ان سوالات کے جوابات کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچے اس قسم کے استعمال کے لیے بامعنی رضامندی نہیں دے سکتے اور ان کے خیال میں بچوں کو نہ صرف ان کی تصویر بلکہ ان کے ذہن کی بھی حفاظت کی جانی چاہیے۔
عوامی ردعمل اور حمایت
نکی اینڈرسن نے اپنی پوسٹ کے علاوہ اسکول انتظامیہ سے بھی تحریری طور پر ان سوالات کے جوابات طلب کیے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کی پوسٹ پر متعدد والدین اور اساتذہ نے حمایت کا اظہار کیا۔
- ایک صارف نے لکھا کہ بچے کا تخیل حیرت انگیز ہے اور اس کی حفاظت کی خواہش قابل تعریف اور ضروری ہے۔
- ایک دوسری صارف نے کہا کہ اگر اسکول ان کے بچے کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تصویر بناتا تو وہ سخت برہم ہوتے، اور اسے غیر ذمہ دارانہ کے علاوہ اخلاقی اور ماحولیاتی لحاظ سے بھی مسئلہ قرار دیا۔
- کئی اساتذہ نے بھی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے نکی اینڈرسن کی حمایت کی اور یاد دلایا کہ اسکول کو قانونی طور پر اس طرح آرٹیفیشل انٹیلیجنس استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔
نکی اینڈرسن نے اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی مہم اساتذہ کے خلاف نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح ضمانتیں قائم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ سے پہلے ہی محدود وسائل میں بہت کچھ کرنے کو کہا جاتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کے ماحول میں رہنمائی کی ذمہ داری صرف ان پر نہیں ڈالنی چاہیے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بچوں کی حفاظت
یہ واقعہ عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے سماجی و اخلاقی اثرات پر جاری بحث کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح پالیسیوں اور والدین کی رضامندی کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ بچوں کی پرائیویسی، تخلیقی صلاحیتوں اور ذہنی نشوونما کو محفوظ رکھا جا سکے۔
