ترکی کے شہر استنبول میں آٹھ ملکوں کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم اجلاس منعقد کیا جس میں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا گیا۔ پاکستان سمیت ان ملکوں نے علاقے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اجلاس 23 اکتوبر 2026 کو استنبول میں ہوا، جس میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں زیر بحث امور
وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی اور اس تنازعے کے اثرات
- اسرائیلی فلسطینی تنازعہ اور مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی ضرورت
- سعودی عرب اور یمن کی حکومت کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملے
- بحری راستوں کی حفاظت اور نیویگیشن کی آزادی
- آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
مذاکراتی حل پر اتفاق
بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تمام زیر التواء تنازعات کے پائیدار اور مذاکراتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے علاقے اور اس سے آگے امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے ان امور کے سکیورٹی، معاشی اور تجارتی اثرات سے نمٹنے کی اہمیت پر بھی بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کی روک تھام اور علاقے میں امن و استحکام کے لیے اس طرز کے مکالمے کو جاری رکھا جائے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خدشات موجود ہیں، اور ماہرین اسے علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
