اسلام آباد: حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف دسمبر کے پہلے ہفتے میں روس کا دورہ کر سکتے ہیں، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات بھی ممکنہ ایجنڈے میں شامل بتائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ممکنہ دورہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور باہمی تعاون کے شعبوں پر بات چیت کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ تجویز کردہ سفر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک سفارتی، معاشی اور توانائی کے شعبوں میں اپنے روابط کو مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم اس دورے اور متوقع صدارتی ملاقات کا ابھی تک سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔
توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تعاون پر غور
حکومتی ذرائع کے مطابق بات چیت میں توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تعاون کے امکانات شامل ہو سکتے ہیں، بالخصوص روسی تیل، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور گیس پائپ لائن منصوبے۔
پاکستان کی قابلِ بھروسہ توانائی فراہمی کی ضروریات اور ایندھن کے مختلف ذرائع تلاش کرنے کی کوششوں کے پیش نظر توانائی کے شعبے میں تعاون ایک اہم موضوع رہنے کی توقع ہے۔ کسی بھی طویل مدتی معاہدے کا انحصار مذاکرات کے نتائج اور متعلقہ تجارتی، تکنیکی اور پالیسی پہلوؤں پر ہوگا۔
معاشی تعاون کے وسیع تر راستے
تجویز کردہ بات چیت اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان معاشی تعاون کے وسیع تر مواقع کے جائزے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پوٹن کی متوقع ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی مفادات کے ساتھ ساتھ علاقائی صورتحال پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ دونوں فریق ایسے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کر سکتے ہیں جہاں قریبی رابطہ کاری ان کی معاشی اور سفارتی ترجیحات کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔
- دورے کی تجویز دسمبر کے پہلے ہفتے کے لیے دی گئی ہے۔
- روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات ممکنہ ایجنڈے کا حصہ۔
- تیل، ایل این جی اور گیس پائپ لائن منصوبے زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔
- دورے اور ملاقات کا ابھی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔
وزیراعظم کے سفری شیڈول، تجویز کردہ ملاقات اور زیرِ بحث مخصوص امور کی مزید تفصیلات متوقع دسمبر دورے کے قریب آنے پر سامنے آنے کی توقع ہے۔
