قاہرہ: مصر کی پارلیمنٹ نے یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں میں شدت کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی امداد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس فیصلے سے اس امکان کو تقویت ملی ہے کہ مصر یمن کے علاقائی تنازعے میں براہ راست ملوث ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر السیسی کی پارلیمنٹ سے درخواست
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر سعودی عرب حوثیوں کے خلاف مدد کی درخواست کرے تو مملکت کی حمایت کے لیے اجازت دی جائے۔ اس اقدام سے مصر کو خلیجی اتحادی اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کے دفاع کا موقع ملے گا۔
باب المندب آبنائے کی اہمیت
حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب آبنائے کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ راستہ مصر کی نہر سوئز تک رسائی کے لیے انتہائی اہم ہے اور عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
مصر کا محتاط مؤقف
مصر نے اس سے قبل ایران اور ایران حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی ہے، تاہم اب تک براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔ اگست میں بھی مصر سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوا تھا۔
ایران کی وارننگ
ایران نے اس سے قبل مصر کو خبردار کیا تھا کہ یمن کی جنگ میں شامل ہونے والا کوئی بھی ملک تنازعے کو خطے سے بہت آگے تک پھیلا سکتا ہے، جس کے نتائج کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہوں گے۔
حوثی حملوں کا تسلسل
اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کی متعدد شہروں میں تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ باب المندب آبنائے میں سمندری ناکہ بندی بھی عائد کی ہے۔ اب تک ان حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً بیس زخمی ہو چکے ہیں۔
- مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو فوجی امداد کی منظوری دی
- صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے اجازت طلب کی تھی
- باب المندب آبنائے عالمی تجارت اور نہر سوئز کے لیے اہم
- ایران نے تنازعے کی توسیع کے حوالے سے خبردار کیا
- حوثی حملوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک و زخمی
