اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں فیصل امین گاندapur اور بیرسٹر گوہر کے درمیان پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو اپوزیشن لیڈر کی منظوری سے مشروط کرنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ یہ اختلافات سات گھنٹے تک جاری رہنے والے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران پیدا ہوئے۔
بیرسٹر گوہر کا مؤقف
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے اپوزیشن لیڈر کو مکمل اختیار تفویض کر رکھا ہے اور حتمی اعلامیے کے لیے ان کی منظوری ضروری ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اسٹینڈنگ کمیٹیز میں واپسی کا فیصلہ کر سکے۔
فیصل امین گاندapur کا اعتراض
فیصل امین گاندapur نے اس مؤقف پر سخت اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ جب محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر اجلاس میں موجود نہیں تو فیصلے ان کی منظوری سے مشروط کیوں کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گاندapur نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چھوڑ دیا اور تجویز دی کہ اراکین اپنی متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹیز میں واپس چلے جائیں۔
اراکین کی جانب سے مؤقف
اجلاس میں شریک دیگر اراکین نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے بانی نے اسٹینڈنگ کمیٹیز میں واپسی پر اعتراض کیا تو وہ دوبارہ ان کمیٹیز سے استعفیٰ دے دیں گے۔
اجلاس کے نتائج
سات گھنٹے تک جاری رہنے کے باوجود اجلاس کے فیصلے مشروط رہے، جس سے پارٹی کے اندر منظوری کے عمل اور پارلیمانی کارروائی کے آئندہ طریقہ کار پر اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔
- اجلاس سات گھنٹے تک جاری رہا لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا
- بیرسٹر گوہر نے اپوزیشن لیڈر کی منظوری کو لازمی قرار دیا
- فیصل امین گاندapur نے اجلاس چھوڑ دیا اور اسٹینڈنگ کمیٹیز میں واپسی کی تجویز دی
- اراکین نے دوبارہ استعفیٰ دینے کا عندیہ دے دیا
