لاہور ہائی کورٹ نے منشیات کے ایک مقدمے میں کیس ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ٹرائل کورٹ کی جانب سے کوٹ لکھپت کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) افضل رؤف پر عائد 200 روپے کے جرمانے کو معطل کرتے ہوئے ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی
جسٹس صادق محمود کھرم اور جسٹس جواد ظفر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایس ایچ او افضل رؤف کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر سماعت کی۔ اپیل کنندہ کی جانب سے سابق سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار فرخ الیاس چیمہ نے دلائل پیش کیے۔
ٹرائل کورٹ نے کیس ریکارڈ نہ پیش کرنے پر جرمانہ کیا تھا
ٹرائل کورٹ نے منشیات کے ایک مقدمے میں ریکارڈ پیش نہ کرنے پر کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او پر 200 روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا، جسے افضل رؤف نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
دفتری اعتراض دور کیا گیا
سماعت کے دوران عدالت نے اپیل کے اندراج سے متعلق دفتری اعتراض بھی دور کر دیا۔ یہ اعتراض اس لیے لگایا گیا تھا کہ اپیل کنندہ نے ٹرائل کورٹ کا عائد کردہ جرمانہ جمع نہیں کروایا تھا۔
جرمانہ احتجاجاً جمع کروانے کی یقین دہانی
ایس ایچ او کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ جرمانہ احتجاجاً جمع کروایا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد ہائی کورٹ نے اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا۔
50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض جرمانہ معطل
عدالت نے کوٹ لکھپت ایس ایچ او افضل رؤف پر عائد 200 روپے کے جرمانے کو 50 ہزار روپے مالیت کے مچلکوں کے عوض معطل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
- لاہور ہائی کورٹ نے کوٹ لکھپت ایس ایچ او پر عائد 200 روپے کا جرمانہ معطل کر دیا
- اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور، متعلقہ ریکارڈ طلب
- جرمانہ احتجاجاً جمع کروانے کی یقین دہانی پر دفتری اعتراض دور
- جرمانہ 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض معطل کیا گیا
