ہلسنکی: فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ٹیلی فون کر کے یوکرین جنگ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ اقدام مغربی یورپی رہنماؤں کی اس طویل روایت سے انحراف ہے جس میں کریملن سے براہ راست رابطے سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹورے کی جانب سے یہ کال ایسے وقت میں کی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے حق میں اپنا مؤقف تبدیل کیا اور امریکہ کے یوکرین کے ساتھ تعلقات 18 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ اسٹورے کے مطابق انہوں نے اور اسٹب نے پیوٹن سے تقریباً 90 منٹ تک بات کی اور بعد ازاں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا۔
ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے اس اقدام کو اگلے ماہ ابوظہبی میں روسی، یوکرینی اور امریکی حکام کے درمیان منصوبہ بند امن مذاکرات سے جوڑا، جو فروری کے بعد اس نوعیت کی پہلی نشست ہوگی۔
مذاکرات کی تفصیلات
اسٹب نے کہا کہ پیوٹن کے ساتھ گفتگو کھلی اور ٹھوس رہی۔ “ہم روس کے پڑوسی ملک ہیں۔ اس جنگ کا نتیجہ ہماری اور وسیع تر یورپی سلامتی پر براہ راست اثر ڈالے گا۔ جنگ ختم کرنے کے لیے براہ راست گفتگو ضروری ہے۔”
اسٹورے نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی کی اہمیت پر زور دیا اور یوکرین کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ فن لینڈ کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسٹب نے کہا کہ اس اقدام پر تمام مغربی اتحادیوں سے مشاورت کی گئی تھی اور یوکرین نے رابطے کا نیا ذریعہ کھولنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق یورپ اب امن کوششوں میں تماشائی نہیں رہ سکتا اور روس کو “خاموش سلوک” دینا ممکن نہیں۔
کریملن کا مؤقف
کریملن کی جانب سے جاری بیان میں پیوٹن کے مؤقف میں کسی نرمی کا اشارہ نہیں ملا۔ بیان کے مطابق “یہ بات واضح کی گئی کہ منصفانہ اور طویل المدتی امن صرف اس صورت میں ممکن ہے جب روسی فیڈریشن کے جائز مفادات کو مکمل اور غیر مشروط طور پر مدنظر رکھا جائے۔”
بیان میں یورپی یونین اور نیٹو ممالک کی “تصادمی پالیسیوں” کا بھی ذکر کیا گیا جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ دشمنی کو طول دے رہی ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ منگل کی کال سے یوکرین تنازعے پر کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی اور یورپی ممالک محض مذاکراتی عمل میں جگہ تلاش کر رہے ہیں۔
یورپی ردعمل میں تقسیم
یوکرینی وزیر خارجہ اینڈری سی بیہا نے کہا کہ یہ کال کیف کے ساتھ ہم آہنگ کی گئی تھی اور یہ “درست طریقہ کار” ہے۔ تاہم ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ انہیں روس کی جانب سے امن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور “یورپ کو الگ تھلگ ہونے کے بجائے متحد رہنا چاہیے”۔
سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے کہا کہ دیگر یورپی رہنماؤں کو ان مذاکرات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور ان کی اس نوعیت کی گفتگو سے توقعات بہت کم ہیں۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ انہوں نے اسٹب اور اسٹورے کو ایسے رابطوں میں “مکمل احتیاط اور چوکسی” کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔
اسٹب اور اسٹورے نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے اپنے ملکوں کے رہنماؤں کی حیثیت سے کام کیا، یورپ کی جانب سے نہیں، اور تمام شراکت داروں سے مکمل مشاورت کی۔
روس کے ساتھ رابطے کا پس منظر
کریملن کے قریب ایک ذریعے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون آخری یورپی رہنما تھے جنہوں نے پیوٹن سے بات کی تھی۔ یہ گزشتہ موسم گرما کی کال تھی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اسے عام نہیں کیا گیا۔ ذریعے کے مطابق پیوٹن نے اسٹب اور اسٹورے کو بتایا کہ یورپی شمولیت خوش آئند ہے اور جنگ کو “زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے” ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
آسٹریا کے سیاسی تجزیہ کار گیرہارڈ مانگوٹ نے کہا کہ یورپی حکومتوں نے جنگ کے حل کے معاملے میں خود کو “بند گلی” میں دھکیل دیا ہے اور منگل کی کال مکالمے کا راستہ کھولنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کریملن کے معاون یوری اشاکوف کے اس بیان کی طرف توجہ دلائی جس میں کہا گیا تھا کہ یورپ کو مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے۔
