مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں پولیس نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکرم کو اغوا کے بعد بازیاب کر لیا ہے، جبکہ اس کے بعد کی گئی کارروائی کے دوران دو افراد بشمول ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ممنوعہ تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے جج کو اغوا کیا تھا۔
اغوا کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
راولاکوٹ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جج کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کی گئی ایک کارروائی کے دوران بازیاب کرایا گیا۔
پولیس کے مطابق جج محمد اکرم پلندری کے راستے راولاکوٹ سے مظفرآباد جا رہے تھے کہ مسلح افراد نے مبینہ طور پر ان کی گاڑی روکی اور انہیں بندوق کی نوک پر اغوا کر لیا۔
مقامی پولیس کے مطابق اغوا کے وقت جج کی گاڑی میں ان کا ڈرائیور اور گن مین بھی موجود تھے۔
کارروائی کے دوران فائرنگ، دو افراد زخمی
راولاکوٹ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران کمیٹی کے کارکنوں نے ایک ہسپتال کے باہر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو افراد بشمول ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
- جج محمد اکرم کو راولاکوٹ سے مظفرآباد جاتے ہوئے اغوا کیا گیا
- پولیس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کارروائی کر کے جج کو بازیاب کرایا
- کارروائی کے دوران ہسپتال کے باہر فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے
- پولیس کے مطابق اغوا میں ممنوعہ تنظیم کے کارکن ملوث تھے
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور پولیس نے ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
