اسپین میں دو ٹرینوں کے درمیان ہولناک تصادم کے بعد جمعرات 29 اکتوبر سے تین روزہ قومی سوگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس سوگ کا اعلان کیا، جبکہ بدھ کے روز پیش آنے والے اس حادثے میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ 2013 کے بعد اس ملک کی بدترین ریل حادثہ ہے، اور اس سے صرف ایک سال سے کم عرصہ قبل ایک اور تصادم میں 46 افراد جان سے گئے تھے۔
حادثے کی تفصیلات اور تکنیکی خرابی
یہ تصادم بدھ کی صبح کاسٹیل-لا مانچا کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب قومی کمپنی رینفی (Renfe) کی ایک تیز رفتار ٹرین اسپین کی نجی کمپنی ایریو (Iryo) کی کھڑی ٹرین سے ٹکرا گئی۔ ٹرانسپورٹ وزیر آسکر پوینٹے نے بتایا کہ سگنلنگ نظام خراب ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے پہلے علاقے میں موجود چھ ٹرینوں، جن میں دونوں متاثرہ ٹرینیں بھی شامل تھیں، کے خودکار طور پر رکنے کا حکم دیا گیا۔ تاہم، چند منٹ بعد کنٹرول سینٹر نے رینفی ٹرین کو دوبارہ چلانے کا حکم دیا، جو پوینٹے کے مطابق ایک “غلط” اور “ناقابلِ فہم” فیصلہ تھا۔
وزیر کے مطابق، رینفی ٹرین نے پندرہ منٹ کے اندر اندر 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور پھر نامعلوم رفتار سے سیدھی لائن پر کھڑی ایریو ٹرین سے ٹکرا گئی۔ پوینٹے نے زور دیا کہ کنٹرول سینٹر کے پاس “غلطی کی تصدیق کے لیے کافی وقت تھا، لیکن انہوں نے اسے درست نہیں کیا۔”
جانی نقصان اور متاثرین کے تاثرات
ایمرجنسی خدمات نے رات بھر ملبے میں مزید متاثرین کی تلاش جاری رکھی اور کرینوں کی مدد سے مڑے ہوئے دھاتی ٹکڑوں کو ہٹایا۔ 31 سالہ پیرو کے شہری جوسیمار میڈینا، جو اپنی ساتھی کے ساتھ اسپین میں چھٹیاں گزار رہے تھے، نے بتایا کہ وہ رینفی کی متاثرہ ٹرین میں سو رہے تھے جب وہ اچانک جاگے اور محسوس کیا کہ وہ “ہوا میں” ہیں۔
42 سالہ پابلو میجیا، جو سر پر زخم کے ساتھ بچ گئے، نے بتایا کہ آخری لمحے میں نشست تبدیل کرنے سے ان کی جان بچ گئی۔ انہوں نے کہا: “زوردار ٹکر تھی، لوگ فرش پر گرے، ایک دوسرے کے اوپر تھے، نشستیں اکھڑ گئیں، اور شدید افراتفری تھی۔”
امدادی کارروائیاں اور نفسیاتی مدد
میدرید سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع قریبی گاؤں اردا کے ایک اسکول میں مسافروں کے خاندان اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ ریڈ کراس کی ٹیمیں وہاں پہنچنے والے افراد کو مدد فراہم کر رہی تھیں، جن میں سے کئی روتے ہوئے پولیس اور صحافیوں کے درمیان پہنچے۔
ریڈ کراس کی ماہر نفسیات کارمین گارسیا نے کہا کہ انہیں “طویل اور مشکل گھڑیوں” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا: “ہمارے پاس وہ لوگ ہیں جو صدمے کی حالت میں ہیں اور انہیں ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا، کچھ غصے میں ہیں، کچھ اداس اور کچھ پریشان ہیں۔ سوگ کا عمل مشکل ہوگا۔”
سول گارڈ نے میڈرڈ، ٹولیڈو، کورڈوبا اور سیویل میں چار دفاتر قائم کیے ہیں تاکہ متاثرین کے رشتہ دار ڈی این اے کے نمونے فراہم کر کے لاشوں کی شناخت میں مدد کر سکیں۔ کاسٹیل-لا مانچا اور میڈرڈ میں خون کے عطیہ کے مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اردہ کے پادری جوزے میگل فرنانڈیز بھی متاثرین کے رشتہ داروں کو تسلی دینے کے لیے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے کہا: “اہم بات یہ ہے کہ متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ رہا جائے تاکہ انہیں قربت کا احساس ہو، کیونکہ ایسے وقت میں الفاظ بے کار ہوتے ہیں۔”
حکومت پر تنقید اور تحقیقات
تحقیقات جاری ہیں، لیکن سوشلسٹ حکومت کو ریلوے نیٹ ورک کے انتظام پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے سگنلنگ کی خرابی اور کنٹرول سینٹر کی “غلطی” کا ذکر کیا، جس نے ریلوے کی حفاظت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔
