لاہور: مشہور مزاح نگار، اداکار اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو دنیا سے رخصت ہوئے 32 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی تینوں زبانوں پر یکساں عبور رکھنے والے اس فنکار کی طرزِ گفتگو آج بھی اہلِ ذوق کے ذہنوں میں زندہ ہے۔
گوجرانوالہ سے پی ٹی وی تک کا سفر
دلدار پرویز بھٹی 30 نومبر 1948 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز گورنمنٹ کالج ساہیوال میں بطور لیکچرر کیا، تاہم علم و ادب سے وابستگی کے ساتھ ساتھ ان کا تخلیقی سفر جلد ہی نشریاتی دنیا کی طرف مڑ گیا۔
طنز و مزاح کا بے مثال امتزاج
دلدار پرویز بھٹی اپنی حاضر جوابی اور برجستہ گوئی میں بے مثال تھے۔ وہ ادب کے میدان سے تعلق رکھتے تھے اور طنز و مزاح کے فن میں مکمل مہارت رکھتے تھے۔ اپنی منفرد گفتگو کے انداز کی بدولت وہ عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ وہ پنجابی، اردو اور انگریزی پر روانی سے بات کرتے تھے، جو ان کی پہچان بنی۔
پی ٹی وی پر یادگار پروگرامز
دلدار پرویز بھٹی نے پی ٹی وی کو پنجابی زبان میں پہلے کوئز شو کی تجویز دی اور اپنے فنی سفر کا آغاز اسی پروگرام “ٹکر” سے کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے “ملا”، “یادِ شبِ خیر” اور “پنجند” جیسے مقبول پروگرامز بھی کامیابی سے پیش کیے۔ وہ 1974 سے وفات تک پی ٹی وی سے وابستہ رہے۔
ادبی ورثہ
اداکاری اور میزبانی کے علاوہ دلدار پرویز بھٹی نے لکھنے کے میدان میں بھی اپنی الگ شناخت بنائی۔ ان کی تصانیف میں “دلدار یاں”، “آمنے سامنے” اور “دلبر دلبر” شامل ہیں۔ انہیں ایک ہمدرد، مخلص اور سچے انسان کی حیثیت سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جو ایک محبوب فنکار اور استاد دونوں تھے۔
وفات
30 اکتوبر 1994 کو دلدار پرویز بھٹی امریکہ میں برین اینیوریزم کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی یادگار شخصیت، مزاح اور ادبی خدمات آج بھی یاد رکھی جاتی ہیں۔
