کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے شہر کے علاقے اسکیم 33 میں واقع ایک پارک کی اراضی پر قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زمین کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔
عدالت نے یہ احکامات اسکیم 33 کے سیکٹر 15-A میں پارک کی اراضی پر قبضے اور عمارتوں کی تعمیر کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیے۔
کے ایم سی کو تعاون کی ہدایت
سماعت کے دوران عدالت نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ حکام کو قبضے ہٹانے اور پارک کی بحالی میں معاونت فراہم کرے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور ریونیو حکام سے 20 جنوری تک تعمیل رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مقام پر کے الیکٹرک کی تنصیبات بھی موجود ہیں۔
وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کے الیکٹرک نے بھی اس علاقے میں تعمیراتی کام سے پیدا ہونے والے خطرات کے حوالے سے ایک خط تحریر کیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے۔
درخواست کے مطالبات
درخواست میں اسکیم 33 کے سیکٹر 15-A میں غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر مسمار کرنے کی استدعا کی گئی تھی، جبکہ بلڈر کو مزید تعمیرات اور عمارت میں یونٹس کی بکنگ سے روکنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔
- سندھ ہائی کورٹ نے پارک کی اراضی پر قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم دیا۔
- کے ایم سی کو قبضے ہٹانے اور پارک کی بحالی میں معاونت کی ہدایت۔
- ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور ریونیو حکام سے 20 جنوری تک تعمیل رپورٹ طلب۔
- درخواست گزار کے وکیل نے تعمیرات کو انسانی جانوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔
- کے الیکٹرک نے تعمیراتی کام کے خطرات سے متعلق خط تحریر کیا۔
