لندن: فرانس میں جاری سماجی تحریک سے متاثر ہو کر برطانوی طلبہ کارکنوں نے اپنے ملک میں بھی احتجاجی تحریک کو فروغ دینے کے لیے آٹھ صفحات پر مشتمل ایک عملی رہنما تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کو ہڑتال اور مظاہروں کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ہے۔
پیرس کے جلوس میں برطانوی کارکنوں کی شرکت
برطانوی طلبہ تنظیم “سوشلسٹ اسٹوڈنٹس” کے ارکان گزشتہ ہفتے پیرس پہنچے اور وہاں کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔ تنظیم کی لندن میں ترجمان صوفیہ پینڈولفی نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ وہاں لاکھوں لوگ سڑکوں پر تھے اور یہ منظر انتہائی متاثر کن تھا۔
انہوں نے کہا کہ “غصے اور جوش کا یہ امتزاج ہی تھا جس نے اتنے بڑے پیمانے پر طلبہ کو متحرک کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ برطانوی طلبہ بھی یہ سمجھیں کہ جب وہ عملی طور پر میدان میں اتریں تو ان میں کتنی زبردست طاقت موجود ہے۔”
پولیس کی سختی پر تنقید
صوفیہ پینڈولفی نے فرانسیسی پولیس کے رویے پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “سب سے خوفناک چیز پولیس کی بربریت اور جبر ہے، لیکن یہ طریقہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا کیونکہ طلبہ مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور پولیس انہیں مظاہروں سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔”
تعلیمی کٹوتیوں کے خلاف آواز
یہ نوجوان کارکن تعلیم میں کٹوتیوں، کفایت شعاری اور بے روزگاری کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ اب اپنے ملک کے طلبہ اور اسکولی بچوں کو متحرک کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے یہ آٹھ صفحات پر مشتمل گائیڈ شائع کی گئی ہے۔
گائیڈ میں کیا کیا ہدایات؟
اس عملی رہنما میں انتہائی واضح ہدایات دی گئی ہیں:
- تحریک شروع کرنے کے لیے دو یا تین ساتھیوں کی تلاش
- کلاسوں سے باہر نکلنے کا وقت طے کرنا
- اسکول کے دروازوں پر پمفلٹ تقسیم کرنا
- واٹس ایپ گروپ بنانا
- پلے کارڈز اور نعرے تیار کرنا
طلبہ کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دیگر اسکولوں تک جلوس نکالیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ساتھیوں کو احتجاج میں شامل ہونے پر قائل کیا جا سکے۔
پرامن احتجاج کی یقین دہانی
صوفیہ پینڈولفی نے یقین دہانی کرائی کہ یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم کسی بھی قسم کے پرتشدد مظاہرے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے۔ ہماری گائیڈ میں طلبہ کو محفوظ طریقے سے منظم ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ٹریڈ یونین کے کارکن بھی مظاہروں کی نگرانی کریں گے تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔”
20 نومبر کو ملک گیر احتجاج
سوشلسٹ اسٹوڈنٹس کی جانب سے 20 نومبر کو انگلینڈ بھر میں 50 مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں ہزاروں طلبہ کی شرکت متوقع ہے۔ یہ احتجاج یورپی سطح پر فوجی اخراجات اور تعلیم میں کٹوتیوں کے خلاف تحریک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
