پیرس: فرانس میں مسلسل تیسرے ہفتے سماجی انصاف، قوت خرید میں اضافے اور تعلیمی اداروں کے لیے مزید وسائل کے مطالبے کے تحت ہفتہ 31 اکتوبر کو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اس بار مظاہروں کا رنگ کچھ مختلف ہو سکتا ہے کیونکہ یہ دن ہالووین کا بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک تجویز نے زور پکڑا ہے کہ مظاہرین ہالووین کے روایتی لباس اور ماسک پہن کر مارچ کریں۔ جادوگرنیوں کی ٹوپیاں، اسکرییم یا اسپائیڈر مین کے ماسک — خیالات کی کمی نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مظاہرے کے دوران ماسک پہننا یا چہرہ چھپانا قانونی طور پر جائز ہے؟
پیرس پولیس کی پیشگی وارننگ
پیرس پریفیکچر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ “ہالووین پر بھی قوانین وہی رہتے ہیں! عوامی مقامات پر چہرہ چھپانا 150 یورو جرمانے کے قابل جرم ہے۔ کسی قسم کا ہتھیار — حتیٰ کہ نقلی بھی — رکھنا 3 سال قید اور 45,000 یورو جرمانے کا مستوجب ہے۔”
تاہم قانونی ماہرین نے اس بیان میں قانون کے کچھ پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کی نشاندہی کی ہے۔
ہالووین پر چہرہ چھپانا: قانون کیا کہتا ہے؟
عوامی حقوق کے ماہر نکولس ہرویو نے X پر پریفیکچر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ہالووین پر قوانین وہی رہتے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ 11 اکتوبر 2010 کا قانون، جو عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے سے متعلق ہے، کئی استثنائی صورتحال فراہم کرتا ہے۔
سابق صدر نکولس سرکوزی کے دور میں منظور شدہ یہ قانون بنیادی طور پر عوامی مقامات پر مکمل نقاب پوشی کی ممانعت کے لیے تھا۔ اس کے تحت عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپ کر چلنے پر 150 یورو جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ تاہم قانون کے آرٹیکل 2 کے مطابق “کھیلوں کی سرگرمیوں، تہواروں یا فنکارانہ و ثقافتی تقریبات کے موقع پر” چہرہ چھپانا جائز ہے — اور ہالووین بھی اس استثنا میں شامل ہے۔
مظاہروں میں ماسک پہننے پر پابندی
لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہالووین کا یہ استثنا مظاہروں کے دوران ماسک پہن کر مارچ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ فرانسیسی تعزیراتی قانون میں اس حوالے سے دو مخصوص دفعات موجود ہیں:
- آرٹیکل R645-14 (2009): عوامی مظاہرے کے دوران یا اس کے آس پاس “شناخت چھپانے کے لیے جان بوجھ کر چہرہ چھپانے” پر 1,500 یورو تک جرمانہ۔
- آرٹیکل 431-9-1 (2019): ایسے مظاہروں میں جہاں “عوامی امن و امان میں خلل پڑنے کا خطرہ ہو”، جان بوجھ کر چہرہ چھپانے پر ایک سال تک قید اور 15,000 یورو تک جرمانہ۔
پیرس کے پولیس چیف لارنٹ نونیز نے ہفتے کے دن کو “عوامی امن و امان میں خلل کا بہت زیادہ خطرہ” قرار دیا ہے، جس کی وزارت داخلہ نے بھی تصدیق کی۔ اس صورتحال میں دوسری دفعہ لاگو ہو سکتی ہے۔
“جائز مقصد” کا استثنا
دونوں دفعات میں ایک مشترکہ استثنا موجود ہے — “جائز مقصد” کا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقصد “مثال کے طور پر تفریحی انداز میں احتجاج کرنا، مزاح کے ساتھ اظہار خیال کرنا، یا اپنی رائے کا اظہار اور سیاسی پیغام پہنچانا” ہو سکتا ہے۔
اگر کسی مظاہرین کو حراست میں لیا جائے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ آیا اس نے ماسک تناؤ بڑھانے کے لیے پہنا تھا یا اپنے مطالبات کے اظہار کے لیے۔
واضح رہے کہ پیرس پریفیکچر نے آئندہ مظاہروں کے راستوں اور اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
