لاہور: پاکستان کے معروف اداکار معمر رانا اور ان کی اہلیہ مہناز کے قریباً 28 سال پر محیط شادی کا خاتمہ ہو گیا ہے، جب لاہور کی ایک فیملی کورٹ نے مہناز کے حق میں خلع کا حکم جاری کیا۔ یہ فیصلہ فلمی دنیا کی ایک نمایاں اور طویل ترین شناخت رکھنے والی جوڑی کی علیحدگی کا باعث بنا ہے۔
عدالتی فیصلہ اور قانونی کارروائی
فیملی کورٹ کے جج زاہد بشیر نے مہناز کے وکیل خدیجہ صدیقی کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل سننے کے بعد ان کے حق میں خلع کا ڈگری جاری کی۔ مہناز نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ مزید اپنے شوہر کے ساتھ نباہ نہیں کر سکتیں، اس لیے خلع کے ذریعے نکاح کی تنسیخ کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
شادی کا پس منظر
دونوں کی شادی 24 اکتوبر 1998 کو ہوئی تھی، جب معمر رانا اپنے اداکاری کے کیریئر کے عروج پر تھے۔ اس رشتے سے ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں۔ مہناز طویل عرصے تک اپنے شوہر کے پیشہ ورانہ سفر میں معاون رہیں اور فلمی تقریبات میں اکثر ان کے ہمراہ نظر آتی رہیں۔
خلع کی درخواست میں الزامات
خلع کی درخواست کے مطابق مہناز نے الزام لگایا کہ معمر رانا نے شراب نوشی کے بعد ان پر جسمانی تشدد اور زبانی زیادتی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اداکار اپنی بیٹیوں کے سامنے بار بار نازیبا زبان استعمال کرتے تھے، جس سے بچیوں کو ذہنی اذیت پہنچی۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اداکار گھریلو اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہے اور خاندان کے افراد کی بار بار مداخلت کے باوجود ان کا رویہ بہتر نہیں ہوا۔
اداکار کا ماضی کا اعتراف
یہ پیش رفت معمر رانا کے گرد حالیہ برسوں میں چلنے والے تنازعات کے درمیان سامنے آئی ہے، جن میں شراب سے متعلق واقعات اور پیشہ ورانہ مشکلات کی خبریں شامل ہیں۔ ایک سابقہ انٹرویو میں اداکار نے مبینہ طور پر بتایا تھا کہ انہوں نے شراب کی لت کے لیے بحالی کا علاج کروایا تھا اور یہ تسلیم کیا تھا کہ ان کی شادی سنگین مشکلات کا شکار ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کے ساتھ ہی دونوں کے درمیان تقریباً تین دہائیوں پر محیط ازدواجی رشتہ باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
