فرانس میں فوڈ ڈیلیوری کرنے والے سائیکل سواروں کو انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں کی جانب سے نسل پرستانہ دھمکیوں اور تشدد کی اپیلوں کا سامنا ہے، جس کے بعد پیرس کی پراسیکیوشن نے نسلی نفرت کو ہوا دینے کے الزام میں باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک آڈیو گفتگو کے دوران سامنے آیا، جہاں مبینہ طور پر مہاجر پس منظر سے تعلق رکھنے والے ڈیلیوری ورکرز کے خلاف تشدد کی کھلی کال دی گئی۔
خوفناک پیغامات اور تشدد کی کھلی دھمکیاں
رپورٹس کے مطابق اس آڈیو مباحثے میں انتہائی دائیں بازو کے حامیوں نے کہا کہ “بہت سے لوگوں کو مارنا پڑے گا”، “یہ غیر ملکیوں کا ملک نہیں ہے” اور “اسلامائزیشن کو ختم کرنا ہوگا” جیسے بیانات دیے۔ مزید برآں، گفتگو میں زہر دینے اور فائرنگ جیسے خوفناک طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈیلیوری رائیڈرز کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
ان پیغامات نے متعلقہ کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ڈیلیوری ورکرز کی نمائندہ تنظیم “میسون ڈیس کورسیئرز” کی کوآرڈینیٹر امیمہ عواد نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ یہ لوگ خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی انتہائی غیر یقینی اور مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں، اور اب ہر ڈیلیوری کے دوران انہیں مزید خطرات کا سامنا ہے۔
یونین اور پلیٹ فارمز کی جانب سے ردعمل
ڈیلیوری ورکرز کی سب سے بڑی یونین “یونین انڈیپنڈنٹ” نے ان دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے Uber Eats اور Deliveroo جیسے پلیٹ فارمز سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ Uber Eats کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے تمام ڈیلیوری رائیڈرز کو حفاظتی ہدایات اور انتباہی پیغامات بھیج دیے ہیں۔
واضح رہے کہ X پر ہونے والی اس گفتگو کے علاوہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ایسے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں صارفین کو اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ ڈیلیوری رائیڈرز کو ویران مقامات پر لے جا کر اجتماعی حملے کریں۔
حکومت کی سخت مذمت اور قانونی کارروائی
فرانس کے وزیر محنت جین پیئر فارانڈو نے ہفتے کے روز ان پیغامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ “خاص طور پر دھمکی آمیز اور نسل پرستانہ نوعیت کے” ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ملک میں کسی بھی کارکن کو اس کی نسل، قومیت، رنگت یا مذہب کی بنیاد پر دھمکیوں یا حملوں کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر محنت نے ڈیلیوری پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ کارکنوں کے تحفظ کے لیے “تمام ضروری اقدامات” کریں، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ “قانون کے خلاف ایسے مواد کو ہٹائیں”۔ دوسری جانب پیرس کی پراسیکیوشن نے نسلی نفرت کو ہوا دینے کے الزام میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پس منظر: پہلے بھی ہدف بنائے گئے
یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈیلیوری رائیڈرز کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ گزشتہ مہینوں کے دوران بہت سے رائیڈرز نے بعض گاہکوں کی جانب سے “بے نقاب نسل پرستی” کی شکایت کی ہے۔ ایک رائیڈر نے بتایا تھا کہ ایک گاہک نے اس سے غلام کی طرح بات کی، جبکہ ایک اور نے الزام لگایا کہ اسے “گھٹیا نسل” اور “عربی” جیسے نسل پرستانہ الفاظ کے ساتھ دھمکایا گیا۔
- پیرس پراسیکیوشن نے نسلی نفرت کو ہوا دینے کے الزام میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
- وزیر محنت نے پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
- ڈیلیوری یونین نے ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
- Uber Eats نے اپنے تمام رائیڈرز کو حفاظتی پیغامات بھیج دیے ہیں۔
