فرانس کے شہر ٹراپس میں 30 اکتوبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے 26 سالہ پینگو بوسیو وانگی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، تاہم اس موقع پر مرکز اور دائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں کی غیر موجودگی نے بحث کو جنم دیا ہے۔
بائیں بازو کی نمایاں شرکت
یادگاری تقریب میں ژاں لوک میلانشون، مارین ٹونڈیلیئر، اولیویے فور، رافیل گلوکسمان، ریما حسن، الیکسیس کوربیئر اور ایان بروساٹ سمیت بائیں بازو کی اہم شخصیات موجود تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹراپس کے میئر علی ربیح نے فرانسیسی عوام پر زور دیا کہ وہ نسل پرستی کے معاملے پر “آنکھیں کھولیں”۔
مرکز اور دائیں بازو کی غیر موجودگی
ادھر ایڈورڈ فلپ، برونو ریٹیلو اور گیبریل اٹال، جو تینوں صدارتی انتخابات کے امیدوار ہیں، اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اس غیر موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے ماحولیاتی جماعت کی قومی سیکرٹری مارین ٹونڈیلیئر نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ “دوسرے کہاں تھے” اور سوال کیا کہ “کیا دہشت گردی کے تمام متاثرین توجہ کے مستحق نہیں؟”
تھیوینو کا دفاع
فرانس انفو پر گفتگو کرتے ہوئے رینیساں پارٹی کی رکن پارلیمنٹ پریسکا تھیوینو نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “نسل پرستی کے خلاف جدوجہد صرف بائیں بازو کی جدوجہد نہیں ہے” اور یہ کہ “ہر وہ شخص جو ٹراپس میں نہیں گیا، اس جنگ کو نہیں لڑ رہا، ایسی بات نہیں ہے”۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقے میں “رہائشیوں کے درمیان” رہنا ترجیح دیتی ہیں۔
تھیوینو نے مزید کہا کہ “نسل پرستی کا مقابلہ مارکیٹنگ اور سیاسی علامتوں سے نہیں کیا جاتا” اور ان کا ماننا ہے کہ وہ “تصویریں بنوانے” یا “مستقل نعروں” کے بغیر بھی اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔ ادھر ایڈورڈ فلپ اور ویلری پیکریس نے 23 اکتوبر کے نسلی حملے سے متاثرہ ایک اور قصبے لا ویریر میں الگ سے ملاقات کی، تاہم یہ اجتماع نسبتاً چھوٹا تھا۔
میئر کا قومی ریلی کے ووٹروں سے خطاب
اپنی تقریر میں میئر علی ربیح نے براہ راست قومی ریلی (نیشنل ریلی) کے ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے التجا کرتے ہیں کہ “آنکھیں کھولیں اور جمہوریہ کا انتخاب کریں”۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ٹراپس میں وہی تکلیفیں اور وہی دکھ بانٹتے ہیں جو آپ بانٹتے ہیں، لیکن اگر آپ اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے مارین لی پین کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ ہمیں خطرے میں ڈال رہے ہیں، ہمیں جو مکمل طور پر فرانسیسی ہیں، بالکل آپ کی طرح”۔
واضح رہے کہ یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب فرانس میں صدارتی انتخابات 2027 کے حوالے سے سیاسی ماحول گرما رہا ہے اور نسل پرستی اور امیگریشن جیسے موضوعات پر سیاسی جماعتوں کے موقف میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔
