چین کی حکومت نے دارالحکومت بیجنگ اور اس کے مضافات میں 15 نومبر سے ڈرون کی ملکیت اور استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے نے شہریوں میں شدید بے چینی اور حیرت پیدا کر دی ہے، کیونکہ ملک کے دیگر حصوں میں ڈرون ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
شہریوں کو اپنے ڈرون بیچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے
بیجنگ کے رہائشیوں کے پاس اب صرف دو ہفتے باقی ہیں کہ وہ 15 نومبر کی آخری تاریخ سے قبل اپنے ڈرون سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ حکام نے ڈرون کی خریداری کے لیے مقررہ مراکز قائم کیے ہیں، جہاں شہریوں کو انتہائی کم قیمت پر اپنے آلات فروخت کرنے پڑ رہے ہیں۔
تیس سالہ شہری دا پینگ نے بتایا کہ اس نے دو سال قبل تقریباً 1300 یورو میں ڈرون خریدا تھا، لیکن اب اسے صرف 400 یورو کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قیمت مارکیٹ ریٹ سے کافی کم ہے، اس لیے وہ اپنا ڈرون کسی دوسرے شہر بھیج کر وہاں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
حکام کی شرائط اور سخت پابندیاں
حکومت کی جانب سے معمولی سبسڈی کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ ڈرون مالکان کو پولیس کو تحریری ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ ان کے پاس مزید کوئی ڈرون موجود نہیں ہے۔
چینی ڈرون کمپنی DJI کے ایک فروخت کنندہ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص 15 نومبر تک اپنا ڈرون جمع نہیں کرواتا تو اسے غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پابندی اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے، اور اگر کوئی ڈرون شہر سے باہر منتقل کر کے استعمال کرنا چاہے تو وہ دوبارہ کبھی بیجنگ میں نہیں لا سکتا۔
پابندی کی وجوہات: سیکیورٹی خدشات
اس سخت پابندی کی بنیادی وجہ بیجنگ کی فضائی حدود کی سیکیورٹی ہے۔ رواں سال جون میں ایک چھوٹے سیاحتی طیارے کے شہر کی بلند ترین عمارت سے ٹکرانے کے واقعے نے حکام کی نیند حرام کر دی ہے۔ اس واقعے کے بعد سے ہر اڑنے والی چیز کو ممکنہ خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
جرمن پبلک براڈکاسٹر ARD کے بیجنگ بیورو کے سربراہ یورگ اینڈرس نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ڈرون استعمال کرنا بند کرنا پڑا ہے، جس سے ان کی رپورٹنگ متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چین کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر چین سے آنے والی خبروں کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے، اور سیکیورٹی اداروں میں ایک قسم کا خوف و ہراس دکھائی دیتا ہے۔
پانچ سالہ منصوبے سے تضاد
یہ پابندی چین کے پانچ سالہ منصوبے کی اہداف سے براہ راست متصادم ہے، جس میں “کم بلندی کی معیشت” کو ترقی کا انجن بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ڈرون ڈیلیوری سروسز سے لے کر فضائی ٹیکسیوں تک جدید ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی شامل ہے، تاہم بیجنگ کے آسمان کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
ملک کے دیگر شہروں میں ڈرون کے ذریعے روشنی کی نمائش، کھانے کی ترسیل اور ہسپتالوں تک خون کی منتقلی جیسی خدمات عام ہیں، لیکن دارالحکومت میں اب فضائی سرگرمیوں پر مکمل خاموشی طاری ہو گی۔
