فرانس میں موٹاپے کے خلاف جدوجہد کرنے والے مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اب تک صرف انجیکشن کی صورت میں دستیاب ویگووی (Wegovy) دوائی پیر دو نومبر سے گولی کی شکل میں بھی فارمیسیوں میں دستیاب ہوگی۔ ڈنمارک کی کمپنی نووو نوردیسک (Novo Nordisk) کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی یہ گولی فرانس میں جی ایل پی-1 (GLP-1) ادویات کی کلاس میں پہلی زبانی شکل ہے، جو موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
کیا ہے ویگووی گولی اور کیسے کام کرتی ہے؟
ویگووی گولی انجیکشن کی طرح ہی ایک ہارمون کی نقل کرتی ہے جو آنتوں میں پیدا ہوتا ہے اور بھوک کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ دوا پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں دستیاب ہے، اور اب فرانس میں بھی اس کی منظوری دی گئی ہے۔ تاہم، اس کے استعمال کے لیے طبی نسخہ لازمی قرار دیا گیا ہے اور یہ صرف ان بالغ افراد کے لیے مخصوص ہے جو موٹاپے کا شکار ہیں یا زیادہ وزن رکھتے ہیں اور ان کے وزن سے جڑی کم از کم ایک بیماری موجود ہو۔
قیمت اور بیمہ کی صورتحال
ویگووی گولی کی قیمت فی ماہ 169 سے 235 یورو کے درمیان ہوگی، جو کہ انجیکشن کے علاج کے برابر ہے۔ تاہم، ایک اہم بات یہ ہے کہ اس گولی کی قیمت فی الحال فرانس کی صحت بیمہ (Assurance maladie) کے تحت نہیں آتی، جبکہ انجیکشن کی صورت میں یہ سہولت موجود ہے۔ کمپنی نے ابھی تک اس گولی کی قیمت کی واپسی کے لیے درخواست بھی جمع نہیں کرائی۔
نووو نوردیسک فرانس کے ڈائریکٹر جنرل ایٹین ٹیچٹ نے فرانسیسی اخبار “لو پاریسیں” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مریضوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ قیمت کی بنیاد پر انجیکشن اور گولی کے درمیان انتخاب نہ کریں، بلکہ دونوں کی قیمت کو یکساں رکھا گیا ہے تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔
کیا کہتے ہیں ماہرین؟
فرانس میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ مریض پہلے ہی ویگووی انجیکشن استعمال کر رہے ہیں۔ نووو نوردیسک کا کہنا ہے کہ گولی انجیکشن کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان مریضوں کے لیے ایک اضافی آپشن فراہم کرے گی جو پہلے علاج سے محروم تھے۔
موٹاپے سے متعلق تنظیموں کی قومی کونسل (Cnao) کی صدر این-صوفی جولی نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ ہر شخص سوئیوں سے نہیں ڈرتا، لیکن گولی کے استعمال کی بھی اپنی شرائط ہیں اور اسے بھی مکمل طبی نگرانی میں ہی تجویز کیا جانا چاہیے۔
کلینیکل ٹرائل کے نتائج کے مطابق، سب سے زیادہ خوراک استعمال کرنے والے مریضوں میں تقریباً 15 ماہ کے علاج کے بعد اوسطاً 17 فیصد وزن کم ہوا۔
مارکیٹ میں مقابلہ اور آگے کی راہ
موٹاپے کے علاج کی مارکیٹ میں نووو نوردیسک اور امریکی کمپنی ایلی للی (Eli Lilly) کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ ایلی للی کی زبانی دوا “فاؤنڈایو” (Foundayo) امریکہ میں اپریل سے اور برطانیہ میں اگست سے دستیاب ہے، اور یورپی یونین میں اس کی منظوری متوقع ہے۔
ویگووی گولی نے اب تک مارکیٹ میں برتری حاصل کی ہے اور دوسری سہ ماہی میں اس کی فروخت 480 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ امریکہ میں اب تک اس دوا کے پانچ ملین سے زیادہ نسخے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ برطانیہ میں ہر ہفتے اوسطاً 65,000 سے زیادہ پیکٹ فروخت ہو رہے ہیں۔
دونوں کمپنیاں اگلی نسل کے علاج پر کام کر رہی ہیں جن میں زیادہ اثر، کم مضر اثرات، طویل وقفے اور پٹھوں کی حفاظت جیسی خصوصیات شامل ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق 2030 تک اس مارکیٹ کی مالیت 100 بلین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
فرانس میں موٹاپے کے طبی اور سماجی و اقتصادی اثرات کا تخمینہ سالانہ 18 بلین یورو لگایا گیا ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ویگووی گولی کی آمد اگرچہ ایک نئی امید ہے، لیکن اس کی قیمت، طبی نسخے کی شرط اور بیمہ کی عدم دستیابی جیسے عوامل اسے ہر مریض کے لیے آسان نہیں بناتے۔
