پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ذاتی اور خفیہ پیغامات ایک نئی کتاب میں سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے اپنے سیاسی فیصلوں، میڈیا کے کردار اور 2027 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ سیاسی تبدیلی پر کھل کر بات کی ہے۔
کتاب کا پس منظر
صحافی اور کالم نگار فرانسوا ڈیگوا کی کتاب “ووز ایٹ ٹو ٹرو ڈور ایویک موا” (تم سب میرے ساتھ بہت سخت ہو) جمعرات پانچ نومبر کو منظر عام پر آ رہی ہے۔ لی فگارو کے مطابق، اس کتاب میں ڈیگوا نے صدر میکرون کے ساتھ دو سال کے دوران ہونے والی ٹیلی گرام گفتگو کو شامل کیا ہے۔
یہ انکشافات فرانس میں اس وقت کے سابق صدر فرانسوا اولاند کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے اپنے دورِ صدارت میں صحافیوں کو دیے گئے انٹرویوز کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کو متاثر کیا تھا۔ تاہم، میکرون نے ایلیسی محل میں آنے کے بعد سے صحافیوں کے ساتھ براہ راست انٹرویوز سے گریز کیا ہے اور زیادہ تر رابطہ خفیہ پیغام رسانی کے ذریعے کیا ہے۔
خفیہ پیغامات کی نوعیت
کتاب کے مطابق، صدر میکرون اکثر دیر رات ٹیلی گرام کے ذریعے تحریری پیغامات بھیجتے ہیں۔ ان پیغامات میں وہ اپنے سیاسی فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے مخالفین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور 2027 میں راسیمنٹ نیشنل (RN) کی ممکنہ کامیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
فلسفی برنارڈ ہنری لیوی نے بھی اپنی 2025 کی کتاب “نوئٹ بلانش” میں صدر کے ساتھ رات کے وقت ہونے والی گفتگو کا ذکر کیا تھا۔
اہم انکشافات
- صدر میکرون نے اپنے سیاسی مخالفین کو “مبول” اور “سالوپار” جیسے سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا
- انہوں نے سی اینوز چینل کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا
- امیر طبقے اور اپنی زندگی کے بعد کے منصوبوں پر بھی بات کی
- کتاب میں 2027 کے انتخابات میں راسیمنٹ نیشنل کی ممکنہ کامیابی پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے
یہ کتاب فرانسیسی سیاسی حلقوں میں اس وقت بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے جب ملک 2027 کے صدارتی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، میکرون کے 2022 کے کچھ ووٹر اب راسیمنٹ نیشنل کی رہنما مارین لی پین کی حمایت کرنے کا سوچ رہے ہیں، جو صدر کے لیے ایک بڑی سیاسی تشویش ہے۔
واضح رہے کہ صدر میکرون نے اپنے دور میں صحافیوں سے فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے، لیکن خفیہ پیغام رسانی کے ذریعے ان کے سیاسی خیالات اور حکمت عملی کے بارے میں معلومات سامنے آ رہی ہیں۔
